بیجنگ (شِنہوا) عالمی معیشت کی کمزور بحالی اور بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں پیرس میں ہونے والے آمدہ چین- امریکہ اقتصادی اور تجارتی مذاکرات غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ دنیا کو توقع ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے قریب آئیں گے تاکہ عالمی تجارت اور ترقی میں استحکام لانے میں مدد مل سکے۔
گزشتہ سال سے دونوں سربراہان مملکت کے عزم اور ان کے مثبت روابط نے چین- امریکہ تعلقات کی درست سمت میں ترقی کے لئے ایک اہم تزویراتی ضمانت فراہم کی ہے۔
دونوں فریق اب تک اقتصادی اور تجارتی مذاکرات کے 5 ادوار مکمل کر چکے ہیں جن میں متعدد مثبت نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ چین- امریکہ تعلقات کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھانے کے لئے دونوں سربراہان مملکت کی مضبوط تزویراتی رہنمائی، ان کے مابین اہم اتفاق رائے پر مکمل عملدرآمد اور باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور باہمی مفید تعاون کے لئے غیر متزلزل عزم کی ضرورت ہے۔
کوالالمپور میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دوران دونوں فریقوں نے متعدد امور پر اتفاق رائے حاصل کیا جن میں چین کے بحری، لاجسٹکس اور جہاز سازی کے شعبوں پر امریکہ کے سیکشن 301 اقدامات، باہمی محصولات کی معطلی میں توسیع، فینٹانائل سے متعلق محصولات اور انسداد منشیات تعاون، تجارت میں توسیع اور برآمدی کنٹرول جیسے موضوعات شامل ہیں۔
اس ملاقات کے بعد دونوں فریقوں نے مختلف سطح پر قریبی رابطہ برقرار رکھا ہے۔ بوسان ملاقات میں دونوں سربراہان مملکت کے درمیان ہونے والے اتفاق رائے پر عملدرآمد، کوالالمپور مذاکرات کے نتائج کو آگے بڑھانے اور ایک دوسرے کے اقتصادی و تجارتی خدشات کو دور کرنے پر بروقت تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
تاہم چین- امریکہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات میں برسوں سے موجود ڈھانچہ جاتی اور گہرے اختلافات راتوں رات حل نہیں ہو سکتے۔ اس سال کچھ نئی صورتحال بھی سامنے آئی ہے۔ فروری میں ٹرمپ انتظامیہ نے تمام ممالک اور خطوں سے آنے والی اشیاء پر اضافی محصولات لگانے کا اعلان کیا۔
چین تمام تر صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور متعلقہ امریکی اقدامات کا جامع جائزہ لے گا۔ چین اپنے جائز حقوق اور مفادات کے مضبوط تحفظ کے لئے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
آمدہ مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے یا نہیں، اس کا زیادہ تر انحصار امریکہ پر ہوگا۔ واشنگٹن کو چاہیے کہ وہ مذاکرات کو عقلی اور عملی ذہنیت کے ساتھ آگے بڑھائے اور ان اصولوں کے مطابق عمل کرے جو چین۔ امریکہ کے مستحکم اقتصادی تعلقات کی بنیاد ہیں۔
مذاکرات کا یہ نیا دور ایک موقع اور ایک امتحان بھی ہے۔ طویل مدتی تعاون اور باہمی احترام پر توجہ دے کر دونوں فریق اپنے اختلافات کم کر سکتے ہیں، تعاون کو وسعت دے سکتے ہیں اور ایسی پیش رفت حاصل کر سکتے ہیں جو دونوں ممالک اور عالمی معیشت کے لئے فائدہ مند ہو۔
بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے اس دور میں چین۔ امریکہ اقتصادی تعاون میں بامعنی پیش رفت نہ صرف دونوں ممالک کے لئے فائدہ مند ہوگی بلکہ عالمی معیشت کو فوری درکار استحکام اور اعتماد بھی فراہم کرے گی۔
Trending
- سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں سے متعلق بحث کیلئے تحریک التوا ءمنظور کر لی
- روسی فوج کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ
- میر رضا کیس: کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، وزیر اعلیٰ بھی ملنے آئے تو نہیں ملیں گے، جسٹس عمر سیال
- سندھ کے تمام تعلیمی بورڈز میں ریکروٹمنٹ رولز 2026 نافذ کرنے کا فیصلہ
- ہیکرز کا3 برطانوی ائیرپورٹس پر سائبر حملہ،87 لاکھ مسافروں کا ڈیٹا چوری
- پنجاب میں مون سون کا 8واں اسپیل، 29 اگست سے 5 ستمبر تک بارشوں کا الرٹ جاری
- بینک اسلامی کا پاکستان کے زرعی سپلائی چین کو مستحکم کرنے کے لیے شریعت کے مطابق “ایگری وہیکل فائنانس” کا آغاز
- خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں 29 اگست سے بارشوں کا امکان، اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ
- لارڈز ٹیسٹ، پہلی اننگز میں انگلینڈ 290 پر آل آؤٹ
- چین میں کرپشن الزامات پر2 اعلیٰ ترین فوجی افسران برطرف
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔