کوکین سپلائرز،پنکی، تحقیقاتی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات
کراچی(پی این پی)شہرِ قائد کے پوش علاقوں میں سرگرم مبینہ کوکین سپلائرز سے متعلق اہم تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی ہے،
جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گرفتار 2 ملزمان مبینہ طور پر انمول عرف پنکی کیلئے کوکین سپلائی کرتے تھے اور نوجوانوں سمیت تعلیمی اداروں کے طلبہ کو منشیات فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ذرائع کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں پیش کی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار ملزمان کراچی کے پوش علاقوں میں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں، کالجز اور جامعات کے طلبہ تک منشیات پہنچاتے تھے۔رپورٹ کے مطابق دونوں ملزمان کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ مبینہ طور پر کوکین کی سپلائی کیلئے جا رہے تھے۔
کارروائی کے دوران پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 45 گرام کوکین اور ایک ڈیجیٹل ترازو بھی برآمد کیا۔تحقیقاتی رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ملزم فرحان اس سے قبل بھی ڈیفنس اور بوٹ بیسن تھانوں میں منشیات سے متعلق مقدمات میں گرفتار ہو چکا ہے جبکہ اس کا نام مصطفی عامر قتل کیس کے ملزم ارمغان کی تفتیشی رپورٹ میں بھی سامنے آیا تھا۔پولیس حکام کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر سیاہ فام غیر ملکیوں سے منشیات حاصل کرتے اور بعد ازاں کراچی کے پوش علاقوں میں سپلائی کرتے تھے۔ایس آئی یو پولیس نے دونوں ملزمان کو 6 مارچ 2025 کو ڈیفنس کے علاقے سے گرفتار کیا تھا جبکہ ان کے خلاف ایس آئی یو صدر تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کیس کو ایک سال گزر جانے کے باوجود اب تک ملزمان پر فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکی۔ رپورٹ کے مطابق ملزم فرحان نے 5 جون 2025 جبکہ ملزم عبدالمغنی نے 17 جولائی 2025 کو ضمانت حاصل کی۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق شہر میں منشیات کے پھیلتے ہوئے نیٹ ورک کے خلاف تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ اس کاروبار میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
PNP
Comments are closed.