نانیوکی میں ایبولا قرنطینہ مرکز کے خلاف احتجاج، مقامی آبادی نے خدشات کا اظہار کر دیا
کینیا کے وسطی شہر نانیوکی میں مجوزہ ایبولا قرنطینہ مرکز کے قیام کے خلاف مقامی شہریوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور منصوبے کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اس مرکز کے قیام سے علاقے کی عوامی صحت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق سیکڑوں افراد نے شہر میں احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کیں، ٹائر نذرِ آتش کیے اور حکومت و متعلقہ حکام کے خلاف نعرے بازی کی۔ احتجاجی مظاہرہ مجوزہ مرکز سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر کیا گیا۔
یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب کینیا کی ہائی کورٹ نے شہریوں کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے قرنطینہ مرکز کے قیام کے منصوبے کو عارضی طور پر روکنے کا حکم جاری کیا۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس نوعیت کی سہولت مقامی آبادی کے لیے ممکنہ خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق لائیکیپیا کاؤنٹی میں واقع ایک فوجی فضائی اڈے پر تقریباً 50 بستروں پر مشتمل قرنطینہ یونٹ قائم کرنے کی تجویز تھی۔ اس مرکز کا مقصد ایسے امریکی شہریوں کو عارضی طور پر رکھنا بتایا گیا جو ایبولا وائرس کے ممکنہ رابطے میں آئے ہوں لیکن ان میں بیماری کی علامات ظاہر نہ ہوئی ہوں۔
احتجاجی مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ نانیوکی ایک نسبتاً چھوٹا شہر ہے جہاں فوجی اہلکار اور مقامی آبادی روزمرہ زندگی میں ایک دوسرے کے قریب رہتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر وائرس کا ایک بھی کیس سامنے آیا تو اس کے اثرات وسیع پیمانے پر پھیل سکتے ہیں۔
دوسری جانب کینیا کے وزیر صحت عدن دوالے نے منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ہنگامی طبی صورتحال سے نمٹنے کے لیے قومی استعداد کار کو بہتر بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے اور اس کا مقصد صحت عامہ کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
عدالتی حکم کے باوجود مقامی ذرائع اور فلائٹ ٹریکنگ معلومات کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکی فوجی طیاروں کی آمد و رفت دیکھی گئی، جس کے باعث شہریوں کے خدشات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
احتجاج کے بعد فوجی اڈے کے اطراف سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ علاقے میں اضافی پولیس اور فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ اڈے کی طرف جانے والے راستوں پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔
PNP
Comments are closed.