by Rao Imran Suleman
Rao Nama

ایران، امریکا مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر صدر ٹرمپ کا بیان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں ایرانی قیادت بھی شریک ہے۔

ایک پوڈ کاسٹ گفتگو میں صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان مثبت پیش رفت کے ذریعے ایک ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے جو خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو۔ ان کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی جاری سفارتی عمل سے آگاہ ہیں اور مستقبل میں ان سے ملاقات کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا، کیونکہ ایسی صورتحال مشرقِ وسطیٰ خصوصاً اسرائیل کے لیے سکیورٹی خدشات میں اضافہ کر سکتی ہے۔

انہوں نے ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایران میں امریکی زمینی فوج بھیجنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق حالیہ اقدامات کے باعث ایران کی عسکری صلاحیتوں پر اثر پڑا ہے اور براہِ راست زمینی مداخلت سے گریز بہتر حکمتِ عملی ہو سکتی ہے۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران کے ساتھ تنازع کے حل اور کسی ممکنہ معاہدے تک رسائی حاصل ہو جاتی ہے تو اس کے مثبت اثرات عالمی توانائی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، جس سے تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام آنے کا امکان ہے۔

تاہم صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اختلافات کے باوجود امریکا اور اسرائیل کے تعلقات برقرار ہیں اور دونوں ممالک کی قیادت مختلف اہم امور پر رابطے میں ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے یہ بیانات ایران کے جوہری پروگرام، امریکا اور ایران کے سفارتی روابط اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم سمجھے جا رہے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر ممکنہ امریکا۔ایران معاہدے پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

PNP

Comments are closed.