by Rao Imran Suleman
Rao Nama

مقبوضہ کشمیر میں ایک اہلکار کی ہلاکت پر ڈھائی ہزار کشمیری گرفتار

 سری نگر: مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد بھارتی سکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کرتے ہوئے ڈھائی ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا، جبکہ دو رہائشی مکانات بھی مسمار کر دیے گئے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز اننت ناگ میں امرناتھ یاترا کی سکیورٹی پر تعینات جموں و کشمیر پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین قریشی پر نامعلوم مسلح افراد نے قریب سے فائرنگ کر دی۔ اہلکار کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

واقعے کے فوری بعد بھارتی پولیس، فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں نے علاقے کا محاصرہ کر کے حملہ آوروں کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ حکام کے مطابق مختلف علاقوں میں چھاپوں اور تلاشی کارروائیوں کے دوران 2,500 سے زائد افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر اننت ناگ میں دو مکانات کو بھی منہدم کیا گیا۔ انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ یہ مکانات لشکرِ طیبہ سے وابستہ دو مشتبہ عسکریت پسندوں کے تھے۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

حملے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ اہم شاہراہوں، داخلی و خارجی راستوں اور حساس مقامات پر اضافی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں، جبکہ متعدد علاقوں میں ناکہ بندی اور شناختی دستاویزات کی جانچ کا عمل بھی جاری ہے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پورا ملک ہلاک ہونے والے اہلکار کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑا ہے اور اس واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین قریشی نے دورانِ ڈیوٹی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے حملے کو بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب مسلسل خراب موسم کے باعث امرناتھ یاترا چوتھے روز بھی معطل رہی، جس کے باعث ہزاروں یاتریوں کو مختلف مقامات پر انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ موسم بہتر ہونے اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد یاترا دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

حالیہ واقعے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں سکیورٹی کی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے، جبکہ بھارتی فورسز کی جانب سے سرچ آپریشن اور گرفتاریوں کا سلسلہ مختلف علاقوں میں جاری ہے۔

PNP

Comments are closed.