ہنگری کا بڑا فیصلہ، 3 ممالک کے شہریوں کو ویزے جاری نہ کرنے کا اعلان
بڈاپسٹ (پی این پی): ہنگری کی حکومت نے غیر ملکی کارکنوں سے متعلق اپنی پالیسی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے تین ممالک کے شہریوں کے لیے ورک ویزوں کے اجرا کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومتی ترجمان وانڈا سونڈی کے مطابق جمعہ سے فلپائن، آرمینیا اور جارجیا کے شہریوں کو نئے ورک ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے۔ ان کے بقول یہ اقدام ملک میں آنے والے گیسٹ ورکرز کی تعداد کو منظم کرنے کے لیے اٹھایا گیا پہلا اہم قدم ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وانڈا سونڈی نے کہا کہ حکومت غیر ملکی کارکنوں کے لیے ملازمت کے مواقع کے قواعد مزید سخت بنانے پر غور کر رہی ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ بیرونِ ملک سے آنے والے کارکن بعض شعبوں میں مقامی افراد کی اجرتوں پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہنگری کی مجموعی افرادی قوت میں غیر ملکی کارکنوں کا تناسب تقریباً دو فیصد ہے، تاہم مینوفیکچرنگ اور سروسز سمیت بعض شعبے ان کارکنوں پر نمایاں حد تک انحصار کرتے ہیں۔
حکومت اس مقصد کے لیے موجودہ ضوابط میں ترمیم کر رہی ہے، جن کے تحت افرادی قوت فراہم کرنے والی کمپنیاں فلپائن، جارجیا اور آرمینیا سے نسبتاً آسان طریقہ کار کے ذریعے کارکنوں کو ہنگری لا سکتی تھیں۔ نئی تبدیلیاں فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ جو غیر ملکی کارکن پہلے سے ہنگری میں موجود ہیں وہ اپنے ویزوں میں توسیع کے لیے درخواست دے سکیں گے، جبکہ پہلے سے جمع شدہ درخواستوں پر بھی معمول کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ہنگری میں سرمایہ کاری کرنے والی بعض بڑی بین الاقوامی کمپنیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر غیر ملکی کارکنوں کی آمد پر مکمل پابندی عائد کی گئی تو اس سے نہ صرف کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں گی بلکہ ملکی معیشت کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
PNP
Comments are closed.