حماس کی بڑی کامیابی، اسرائیل نے غزہ کی سرحدی گزرگاہیں کھول دیں
رفح کراسنگ اور کرم ابو سالم راہداری بحال
ویب ڈیسک | 9 جون 2026
اسرائیل نے کئی ماہ کی بندش کے بعد غزہ کی اہم سرحدی گزرگاہوں، رفح اور کرم ابو سالم، کو محدود پیمانے پر دوبارہ کھولنے کا اعلان کردیا ہے، جس کے نتیجے میں امدادی سامان کی ترسیل اور محدود آمدورفت بحال ہونا شروع ہوگئی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ رفح کراسنگ کو ابتدائی مرحلے میں صرف محدود نقل و حرکت کے لیے کھولا جائے گا، جبکہ کرم ابو سالم گزرگاہ کے ذریعے غزہ میں امدادی سامان کی مرحلہ وار ترسیل بحال کی جائے گی۔
اسرائیلی حکام کے مطابق دونوں گزرگاہوں پر تمام سرگرمیاں سخت سیکیورٹی نگرانی اور پیشگی منظوری کے نظام کے تحت انجام دی جائیں گی۔ بغیر اجازت کسی فرد کو آمدورفت کی اجازت نہیں ہوگی۔
حکام کا مزید کہنا ہے کہ سرحد پار نقل و حرکت صرف ان افراد تک محدود رہے گی جنہیں سیکیورٹی کلیئرنس حاصل ہوگی، جبکہ طبی مریضوں، غیر ملکی شہریت رکھنے والے افراد اور خصوصی انسانی بنیادوں پر سفر کرنے والوں کو ترجیح دی جاسکتی ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کئی ماہ سے شدید انسانی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ امدادی سامان سے بھرے ٹرک سرحدی علاقوں میں رکے ہوئے تھے جبکہ غزہ میں خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی قلت کے باعث شہری شدید مشکلات سے دوچار تھے۔
رفح کراسنگ غزہ اور مصر کے درمیان واحد براہِ راست زمینی رابطہ ہے، جو گزشتہ کئی ماہ سے عملی طور پر بند تھی۔ ذرائع کے مطابق اس گزرگاہ کی نگرانی میں مصر، اسرائیل اور بین الاقوامی فریقین بھی کردار ادا کریں گے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں اور امدادی اداروں نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحدی راستوں کی بحالی غزہ کے لاکھوں متاثرہ شہریوں کے لیے ریلیف کا باعث بن سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ محدود پیمانے پر کھولی جانے والی گزرگاہیں علاقے کی تمام انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوں گی۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے مارچ میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائیوں کے بعد غزہ کی سرحدی گزرگاہیں بند کردی تھیں، جس کے نتیجے میں امدادی سامان کی فراہمی اور شہریوں کی نقل و حرکت شدید متاثر ہوئی تھی۔