نواز شریف کی عوامی سیاست کو نقصان پہنچانے کی مبینہ کوشش، اپنی حکومت کے بل پر لیگی قیادت برہم
اپنی ہی حکومت میں بڑا کھیل؟
کراچی (21 جون): پاکستان مسلم لیگ (ن) سندھ کے نائب صدر محمد اعظم خان لوہانی نے وفاقی وزیر آئی ٹی کی جانب سے پیش کیے گئے متنازعہ ٹیلی کام بل کی قومی اسمبلی سے منظوری کو عوامی مفادات کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بل قائد مسلم لیگ (ن) میاں محمد نواز شریف کی عوام دوست اور فلاحی پالیسیوں کے سراسر منافی ہے اور اس سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اپنے مذمتی بیان میں محمد اعظم خان لوہانی نے کہا کہ اگر سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان اور مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر افنان اللہ خان اس معاملے کو قائمہ کمیٹی میں بے نقاب نہ کرتے تو قومی اسمبلی سے خاموشی کے ساتھ منظور ہونے والا یہ بل شہریوں کی جائیدادوں اور جمع پونجی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا تھا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹیلی کام کمپنیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے بعض عناصر نے ایسا قانونی راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں عوام کی محنت سے کمائی گئی جائیدادیں خطرے سے دوچار ہو سکتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی اعتماد کو مجروح کرنے والی ایسی قانون سازی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے مطالبہ کیا کہ متنازعہ ٹیلی کام بل کو فوری طور پر واپس لیا جائے، وفاقی وزیر آئی ٹی کو عہدے سے ہٹایا جائے اور اس بل کی تیاری، منظوری اور پیش رفت میں شامل تمام ذمہ دار افراد کے کردار کی شفاف تحقیقات کر کے انہیں قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔
محمد اعظم خان لوہانی نے مزید کہا کہ یہ انتہائی تشویشناک امر ہے کہ وزیراعظم کی موجودگی میں اتنا اہم معاملہ آگے بڑھتا رہا جبکہ کابینہ کے بیشتر ارکان اس سے لاعلم رہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ایسے تمام اقدامات کا راستہ روکا جانا چاہیے جو شہریوں کے مفادات اور آئینی حقوق کے خلاف ہوں۔