راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک) تھانہ وارث خان کے علاقہ حکمداد میں دو روز قبل خاتون ٹیچر سے ڈکیتی اور تشدد کا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں زخمی ہوگیا۔
پولیس کے مطابق خاتون سے لوٹ مار کرنے والے دونوں ڈاکو بھائی ہیں، ایک زخمی گرفتار جب کہ دوسرا فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ خاتون کے ساتھ سنگین واردات میں ملوث ڈاکوؤں نے رات گئے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی اور جوابی فائرنگ کے دوران ایک ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا جب کہ دوسرا فائرنگ کرتا ہوا فرار ہو گیا۔
پولیس نے مشکوک موٹر سائیکل کو رُکنے کا اشارہ کیا تو ڈاکوؤں نے پولیس پر فائرنگ کر دی۔ اس دوران مبینہ مقابلے کے بعد گرفتار زخمی ڈاکو کی شناخت حمزہ کے نام سے ہوئی، جس کے قبضے سے پستول اور زیر استعمال موٹر سائیکل برآمد کرلی گئی۔
گرفتار ڈاکو نے ابتدائی تفتیش میں ایک روز قبل وارث خان کے علاقے میں خاتون ٹیچر سے ڈکیتی اور تشدد کی واردات کا اعتراف کیا ہے۔ ملزم نے یہ بھی انکشاف کیا کہ دوسرا ساتھی اس کا بھائی تھا۔ واقعے کی اطلاع پر سینئر پولیس افسران موقع پر پہنچ گئے اور فرار ملزم کی گرفتاری کے لیے ناکا بندی و سرچنگ جاری ہے۔
ملزمان کا تعلق صادق آباد کے علاقے سے ہے۔ ملزمان نے تھانہ نیو ٹاؤن کے علاقے میں بھی بزرگ خاتون سے بالیاں نوچی تھیں۔ تھانہ صادق آباد کے علاقے کھنہ میں بھی خاتون سے واردات کی تھی۔زخمی ڈاکو کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ تفتیش کے دوران مزید اہم انکشافات بھی متوقع ہیں۔
گرفتار ملزم اور اس کے ساتھی کی گرفتاری پولیس کے لیے ایک چیلنج تھی۔ ترجمان پولیس کے مطابق فرار ہونے والے ڈاکو کو بھی جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔
Trending
- ایران سے پاکستان اربوں ایرانی ریال اسمگل کرنے کی بڑی کوشش ناکام
- بحری ناکہ بندی غیرقانونی، اشتعال انگیز غلطی ہے،ایرانی سفیر
- سوئیڈش ٹینس لیجنڈ بیورن بورگ اگلے ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے
- کاروباری شخصیات کیلیے الگ پاسپورٹ سے متعلق بڑی خوشخبری
- امریکی انٹیلی جنس کا دعویٰ
- پنجاب حکومت نے کاشتکاروں کو خوشخبری سنادی
- بھارتی کم عمر کرکٹر ویبھو سوریا ونشی سچن ٹنڈولکر کا ریکارڈ توڑنے کے قریب
- پہلے خریدیں بعد میں پے کریں ، مشہور کمپنی علی بابا کا پاکستان کیلئے اہم اعلان ، لائسنس جاری ہو گیا
- مریم نواز کا کاشتکاروں کو 6 ارب کا باردانہ مفت دینے کا اعلان
- پاکستان میں ہمیشہ معیاری فاسٹ بولرز پیدا ہوئے: کورٹنی والش
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔