by Rao Imran Suleman
Rao Nama

امریکی میڈیکیئر فراڈ کیس: اربوں ڈالر کی مبینہ خردبرد میں مطلوب ملزم گرفتار

امریکا میں سرکاری طبی بیمہ پروگرام میڈیکیئر سے اربوں ڈالر کے مبینہ فراڈ میں مطلوب ایک کاروباری شخصیت کو ترکیہ سے گرفتار کر کے امریکا منتقل کر دیا گیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ابراہیم خلدون حلمی پر الزام ہے کہ انہوں نے مختلف کمپنیوں کے ذریعے میڈیکیئر پروگرام کو جعلی طبی سامان کے بل جمع کرا کر تقریباً 3.7 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا۔ تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ یہ کمپنیاں بظاہر طبی آلات فراہم کرنے والے قانونی اداروں کے طور پر کام کر رہی تھیں، تاہم ان کے ذریعے ایسے طبی سامان کے دعوے جمع کرائے گئے جو یا تو مریضوں نے کبھی طلب نہیں کیے تھے یا انہیں فراہم ہی نہیں کیے گئے۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ بعض معاملات میں ایسے افراد کے نام بھی استعمال کیے گئے جو سرکاری ریکارڈ میں موجود نہیں تھے۔ تحقیقات کے مطابق یہ سرگرمیاں کئی برس تک جاری رہیں اور مختلف کمپنیوں اور ریکارڈز کے استعمال کے باعث ان پر فوری طور پر شک نہیں کیا جا سکا۔

امریکی تفتیش کاروں کے مطابق جب تحقیقات نے اہم پیش رفت کی تو ملزم ملک سے باہر چلا گیا۔ بعد ازاں ترکیہ میں اس کا سراغ لگا کر گرفتار کیا گیا اور قانونی کارروائی کے بعد اسے امریکا منتقل کر دیا گیا۔

ایف بی آئی نے اس گرفتاری کو صحت کے شعبے میں مبینہ مالی بدعنوانی کے ایک بڑے مقدمے کی اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف مقدمہ امریکی عدالت میں چلایا جائے گا اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں اسے بھاری جرمانوں اور قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ کارروائی ایک وسیع تر مہم کا حصہ بتائی جا رہی ہے جس کا مقصد سرکاری فنڈز میں مبینہ فراڈ اور مالی بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق مقدمے کا حتمی فیصلہ عدالت کی کارروائی اور پیش کیے جانے والے شواہد کی بنیاد پر ہوگا، اس لیے ملزم کو عدالت کی جانب سے جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جائے گا۔

PNP

Comments are closed.