امریکا اور ایران کے درمیان دوحہ میں ممکنہ مذاکرات، دونوں ممالک کے بیانات میں تضاد
دوحہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات ہوں گے۔ ان کے مطابق یہ ملاقات ایران کی درخواست پر منعقد کی جا رہی ہے، تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال کسی براہ راست یا تکنیکی مذاکرات کا کوئی باضابطہ پروگرام موجود نہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا مقصد جاری کشیدگی میں کمی لانا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں کم ہو کر تقریباً 69 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہیں اور ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔
ادھر وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور دیگر حکام دوحہ روانہ ہوں گے، جہاں ایرانی نمائندوں کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے علاوہ تکنیکی امور پر بھی بات چیت متوقع ہے۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے میڈیا سے گفتگو میں واضح کیا کہ اس ہفتے امریکا کے ساتھ کسی تکنیکی ورکنگ گروپ یا براہ راست مذاکرات کا شیڈول طے نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف معاملات پر رابطے ثالث ممالک کے ذریعے جاری ہیں، لیکن مذاکرات کا آغاز مناسب حالات پیدا ہونے کے بعد ہی ہوگا۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی برقرار رکھنے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو محفوظ بنانے جیسے معاملات زیر غور ہیں۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ ممکنہ مذاکرات میں خطے کی سیکیورٹی، اقتصادی پابندیوں اور جوہری پروگرام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے۔
ادھر عالمی توانائی مارکیٹ میں حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مذاکرات آگے بڑھتے ہیں تو عالمی توانائی منڈی میں مزید استحکام آ سکتا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ قطر میں منجمد ایرانی اثاثوں کے ایک حصے کی ممکنہ رہائی پر بھی پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی سرگرمیوں کو خطے میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی کم کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم جوہری پروگرام، پابندیوں اور علاقائی سلامتی سمیت اہم معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اب بھی برقرار ہیں، جس کے باعث دوحہ میں متوقع پیش رفت پر عالمی توجہ مرکوز ہے۔
PNP
Comments are closed.