by Rao Imran Suleman
Rao Nama

ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری معاہدے کی منظوری دے دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری تعاون کے معاہدے کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان پرامن ایٹمی توانائی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب میں سول جوہری منصوبوں کی تعمیر، تکنیکی معاونت، تربیت اور جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی میں حصہ لے سکیں گی۔ اس تعاون کا مقصد بجلی کی پیداوار بڑھانا، توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا اور سعودی عرب کی طویل مدتی توانائی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔

رپورٹس کے مطابق معاہدہ امریکی قانون کے تحت کانگریس میں جائزے اور منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں اس کی مختلف شقوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

سعودی عرب کئی برسوں سے اپنے ویژن 2030 منصوبے کے تحت توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور خام تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے سول جوہری پروگرام کے قیام پر کام کر رہا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ معاہدے میں بین الاقوامی ایٹمی ضوابط، حفاظتی تقاضوں اور عدم پھیلاؤ سے متعلق اصولوں کو مدنظر رکھا گیا ہے تاکہ جوہری تعاون صرف پرامن مقاصد تک محدود رہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکی کانگریس اس معاہدے کی حتمی منظوری دے دیتی ہے تو یہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ خطے میں توانائی، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

PNP

Comments are closed.