by Rao Imran Suleman
Rao Nama

فیفا نے مجوزہ پروجیکٹ پر اعتراضات کے بعد وضاحتی بیان جاری کردیا

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے مجوزہ فیفا فارورڈ انٹرپرائز منصوبے پر سامنے آنے والے اعتراضات کے بعد وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارہ اپنے تمام 211 رکن ممالک سے حقائق کی بنیاد پر رائے لینا چاہتا ہے۔

فیفا کے مطابق کوئی بھی ایک تنظیم دنیا کے تمام 211 رکن ممالک کی نمائندگی کا دعویٰ نہیں کر سکتی، اس لیے تمام فیصلے رکن ممالک سے مشاورت کے بعد کیے جائیں گے۔

بیان میں فیفا نے واضح کیا کہ “فٹبال فروخت نہیں ہو رہا، فیفا ایسا کبھی نہیں کرے گی۔”

فیفا کے مطابق مجوزہ منصوبے کے تحت فیفا فارورڈ انٹرپرائز کے ذریعے تجارتی سرگرمیوں کو ایک ذیلی ادارے کے تحت چلانے کی تجویز دی گئی ہے، تاہم یہ ذیلی ادارہ مکمل طور پر فیفا کی ملکیت اور اس کے کنٹرول میں ہوگا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد تجارتی آمدن میں اضافہ کرنا ہے تاکہ اس کے فوائد تمام 211 رکن ممالک تک پہنچ سکیں۔

فیفا نے مزید بتایا کہ منصوبے کے تحت ہر رکن ملک کو 2027 سے 2030 کے دوران 2 کروڑ امریکی ڈالر فیفا فارورڈ فنڈنگ فراہم کرنے کی تجویز ہے۔

فیفا کا کہنا ہے کہ اگرچہ منصوبے میں بیرونی سرمایہ کاری شامل ہو سکتی ہے، تاہم اس سے فیفا کے کنٹرول، گورننس یا خودمختاری پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

وضاحتی بیان کے مطابق اگر اکثریتی رکن ممالک اس تجویز کی حمایت نہیں کرتے تو فیفا فارورڈ انٹرپرائز قائم نہیں کیا جائے گا، جبکہ منصوبے کی منظوری، ترمیم یا مسترد کرنے کا حتمی فیصلہ بھی تمام رکن ممالک سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔



PNP

Comments are closed.