کراچی(پی این پی) مقامی جننگ فیکٹریوں میں 31جولائی تک 7لاکھ 86ہزار گانٹھوں کے مساوی کپاس کی آمد ریکارڈ کی گئی، بارشوں کے باوجود سندھ میں کپاس کی پیداوار میں گزشتہ سال کی بہ نسبت 67 فیصد اضافہ ہوا اس کے برعکس پنجاب میں ایک فیصد کمی واقع ہوئی تاہم پنجاب کی کراپ رپورٹنگ سروسز کی جانب سے حیران کن انداز میں زیرتبصرہ مدت کے دوران پنجاب میں کپاس کی پیداوار 32فیصد زائد ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق 31 جولائی تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں مجموعی طور پر 7لاکھ 86ہزار گانٹھوں کے مساوی کپاس کی جننگ فیکٹریوں میں ترسیل ہوئی ہے جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 32فیصد زائد ہے،پی سی جی اے رپورٹ کے مطابق اسی عرصے میں پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں 2لاکھ 98ہزار گانٹھوں کے مساوی اور سندھ کی جننگ فیکٹریوں میں 4لاکھ 88ہزار گانٹھوں کے مساوی پھٹی کی ترسیل ہوئی ہے جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں بالترتیب ایک فیصد کم اور 67فیصد زائد ہے۔
انہوں نے بتایا کہ زیرتبصرہ مدت میں ٹیکسٹائل ملوں کی جانب سے جننگ فیکٹریوں سے 7لاکھ 4ہزار گانٹھوں جبکہ برآمد کنندگان کی جانب سے 3ہزار 400گانٹھوں کی خریداری کی ہے، رپورٹ کے مطابق جننگ فیکٹریوں میں 78ہزار گانٹھوں کے ذخائر فروخت کے لیے دستیاب ہیں، رپورٹ کے مطابق پنجاب میں فی الوقت 108 جبکہ سندھ میں 123جننگ فیکٹریاں فعال ہیں تاہم یہ اطلاعات بھی زیرگردش ہیں کہ سندھ اور پنجاب کے بعض شہروں میں کئی جننگ فیکٹریاں جو جزوی یا مکمل طور پر فعالیت کے بعد مختلف وجوہات کی بناء پر دوبارہ غیر فعال ہوچکی ہیں۔
احسان الحق نے بتایا کہ سندھ کے ضلع سانگھڑ کی جننگ فیکٹریوں میں 3لاکھ 98ہزار گانٹھوں کے مساوی کپاس کی آمد ہوئی ہے جو ملک گیر سطح پر سب سے زیادہ، سندھ کی کل پیداوار کا 82فیصد جبکہ پاکستان کی مجموعی پیداوار کا 51فیصد ہے اس کی بڑی وجہ سندھ کے ساحلی علاقوں میں فروری/مارچ کے دوران کاشت ہونے والی کپاس کی آمد ہے۔حیران کن طور پر پنجاب کراپ رپورٹنگ سینٹر سروسز کی جانب سے جاری کردہ 30 جولائی تک کے پنجاب میں کپاس کے پیداواری اعداوشمار پی سی جی اے کے مقابلے میں 32فیصد زائد ہیں اور ان کے مطابق اس عرصے کے دوران پنجاب میں کپاس کی پیداوار 4لاکھ 35ہزار گانٹھوں کے مساوی ہے جو گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 18فیصد کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کے خطرناک اعدادوشمار کے مطابق جنوبی پنجاب کے تینوں ڈویژنز ملتان، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور میں اس عرصے کے دوران مجموعی طور پر 3لاکھ 40ہزار گانٹھوں کی پیداوار ہوئی جن میں بہاولپور ڈویژن کے تینوں اضلاع رحیم یار خان، بہاولپور اور بہاولنگر میں صرف 17ہزار گانٹھوں کی پیداوار ریکارڈ کی گئی ہے حالانکہ چند سال قبل تک بہاولپور ڈویژن کا شمار پاکستان بھر میں سب سے زیادہ کپاس کی پیداوار کا حامل زون تھا لیکن اس زون میں سب سے زائد شوگر ملوں کے قیام کی وجہ سے گنے کی غیر معمولی کاشت کے باعث کپاس کی کاشت میں ریکارڈ کمی واقع ہونے سے یہ کاٹن زون اب شوگرکین زون میں تبدیل ہوچکا ہے جس کے ملکی معیشت پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جس میں خاص طور پر روئی کے ساتھ اربوں ڈالر مالیت کے خوردنی تیل کی درآمدات بھی ہے۔
احسان الحق نے ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے دوران پاکستان نے بیرون ملک سے مجموعی طور ملکی تاریخ کا سب زیادہ 3.785ارب ڈالر مالیت کا 3.482ملین ٹن خوردنی تیل درآمد کیا ہے جب کہ اس سے پچھلے مالی سال میں یہ درآمدات 3.40ارب ڈالر اور مقدار 3.214ملین ٹن تھیں ان عوامل کے باعث خدشہ ہے کہ پاکستان میں کپاس کی ہر سال کم ہوتی ہوئی کاشت کے باعث روئی اور خوردنی تیل کے درآمدی بل میں سالانہ بنیادوں پر بتدریج اضافہ ہوگا لہذا اس صورتحال پر قابو پانے اور کپاس کی بحالی کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو کاٹن زونز میں گنے کی کاشت پر پابندی لگانے کے اقدامات بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستانی درآمدی بل میں مسلسل اضافے کے ساتھ پاکستانی کاٹن ایکسپورٹس اور جی ایس پی پلس اسٹیٹس ہونے کے باوجود یورپی یونین کے ممالک کو برآمدات میں کمی کا رحجان برقرار ہے، اسٹیٹ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026-27 کے دوران پاکستان سے یورپی یونین کے ممالک کو برآمدات مجموعی طور پر 9.089ارب ڈالر رہیں جبکہ اس سے پچھلے سال کے دوران یہ برآمدات 9.106ارب ڈالر تھیں۔
احسان الحق کے مطابق گذشتہ دو سال کے دوران ایف بی آر کی جانب سے برآمد کنندگان کے لئے انکم ٹیکس قوانین میں غیر منصفانہ تبدیلیاں، بجلی، گیس، مارک اپ، انکم و سیلز ٹیکس کے انتہائی بلند نرخ اور سرکاری محکموں کی صنعتوں میں بے جا مداخلت کے باعث پاکستان میں کاروبار کرنا اب انتہائی پچیدہ ہوگیا ہے جس کی وجہ ٹیکسٹائل و جننگ سیکٹر کے سیکڑوں یونٹ غیر فعال ہوچکے ہیں جبکہ کئی جزوی فعال ہیں۔
PNP
Comments are closed.