بھارتی جریدے تہلکہ کے سابق مدیر کو ریپ کیس میں 10 سال قید کی سزا
بھارتی عدالت نے سابق تہلکا میگزین کے مدیر ترون تیج پال کو سابق خاتون ساتھی کے ساتھ ریپ کے مقدمے میں 10 سال قید کی سزا سناتے ہوئے 2021 میں ہونے والی ان کی بریت کو کالعدم قرار دے دیا۔
بمبئی ہائی کورٹ کے گوا بینچ نے ترون تیج پال کو بھارتی قانون کی ریپ اور جنسی ہراسانی سے متعلق دفعات کے تحت مجرم قرار دیا۔ عدالت نے انہیں بیک وقت چلنے والی قید کی سزاؤں کے علاوہ مجموعی طور پر 10 لاکھ بھارتی روپے سے زائد جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔
ترون تیج پال، جو الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں، نے سزا سنائے جانے سے قبل کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔
ترون تیج پال کے خلاف الزامات پہلی بار 2013 میں منظر عام پر آئے تھے اور اس وقت یہ معاملہ بھارت بھر میں نمایاں خبروں میں شامل رہا۔ اس سے ایک سال قبل دہلی میں اجتماعی زیادتی اور قتل کے ایک ہولناک واقعے کے بعد ہزاروں افراد نے احتجاج کیا تھا، جس کے نتیجے میں بھارت میں جنسی تشدد کے حوالے سے وسیع بحث شروع ہوئی تھی۔
بھارتی قانون کے تحت شناخت ظاہر نہ کیے جانے والی مدعیہ نے الزام عائد کیا تھا کہ نومبر 2013 میں گوا میں تہلکا کی بین الاقوامی کانفرنس کے دوران ترون تیج پال نے لفٹ میں ان پر جنسی حملہ کیا۔ اس کانفرنس میں ہالی ووڈ اداکار رابرٹ ڈی نیرو سمیت متعدد شخصیات نے شرکت کی تھی۔
ابتدائی طور پر ترون تیج پال نے واقعے کو غلط فیصلے اور صورتحال کو غلط سمجھنے کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ بعد ازاں انہوں نے بیان جاری کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا جائے تاکہ حقائق واضح ہو سکیں۔ انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف مقدمہ گوا میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کی سیاسی انتقامی کارروائی کا حصہ ہے۔
ترون تیج پال نے 2000 میں تہلکا میگزین کی مشترکہ بنیاد رکھی تھی، جس نے متعدد اہم تحقیقی رپورٹس شائع کیں۔ ان میں آپریشن ویسٹ اینڈ بھی شامل تھا، جس میں صحافیوں نے اسلحہ فروش بن کر خفیہ ریکارڈنگ کے ذریعے فوجی افسران، بیوروکریٹس اور اُس وقت برسراقتدار بی جے پی کے صدر کو جعلی دفاعی معاہدے کے بدلے رشوت لیتے ہوئے دکھایا تھا، جس پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر ردعمل سامنے آیا تھا۔
ترون تیج پال کو 2013 میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ سات ماہ جیل میں رہے، جس کے بعد بھارتی سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔
2021 میں گوا کی ایک سیشن عدالت نے ان کے خلاف تمام الزامات ختم کر دیے تھے، تاہم 527 صفحات پر مشتمل فیصلے میں جج کے بعض مشاہدات پر شدید تنقید ہوئی تھی۔ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ واقعے کے فوراً بعد لی گئی تصاویر میں مدعیہ مسکراتی ہوئی، خوش اور معمول کے مطابق دکھائی دے رہی تھیں اور وہ پریشان، خوفزدہ یا صدمے کا شکار نظر نہیں آ رہی تھیں، حالانکہ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی تھی۔
PNP
Comments are closed.