آسٹریا کے شہر ویانا میں جوہری تحفظ سے متعلق آئی اے ای اے کی وزارتی کانفرنس نے ایک مشترکہ بیان منظور کیا۔بیان میں کہا گیا کہ جوہری تحفظ ایک قومی ذمہ داری ہے جس میں جوہری مواد، تابکاری مواد یا متعلقہ تنصیبات کے خلاف بدنیتی پر مبنی کارروائیوں کی روک تھام، نگرانی اور جواب دینا شامل ہے ۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے تناظر میں ان ٹیکنالوجیز سے پیدا ہونے والی ممکنہ کمزوریوں اور خطرات سے نمٹنے کے لیے اعلی سطح کی نگرانی کی ضرورت ہے۔
چین کے نمائندے نے اپنی تقریر میں کہا کہ چینی حکومت کی جانب سے اپنی نیوکلیئر سکیورٹی کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں متعدد قوانین و ضوابط نافذ کیے گئےہیں، جوہری مواد اور جوہری تنصیبات کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کی وضاحت کی گئی ہے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے جوہری تنصیبات کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے باقاعدگی سے جامع سکیورٹی مشقوں کا انعقاد کیا جاتاہے۔
جوہری سلامتی پر آئی اے ای اے کی وزارتی کانفرنس 20 مئی کو شروع ہوئی اور یہ 24 مئی کو اختتام پذیر ہوگی ۔ کانفرنس میں عالمی جوہری تحفظ کے مستقبل پر توجہ مرکوز کی گئی اور جوہری توانائی اور جوہری تحفظ کے شعبے میں ممالک کے تازہ ترین طریقوں کا تبادلہ کیا گیا۔
Trending
- کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی پر پُرتشدد احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین گرفتار
- پمز سانحہ،چین کا اسلام آباد کیلئے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
- کراچی میں مبینہ نومولود لاپتا ہونے کا معاملہ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف سامنے آگیا
- گلیشیئرز پگھلنے سے شمالی علاقوں کو شدید خطرات، نیپال سے زیادہ گھمبیر صورتحال پاکستان کی ہے، ماہرین نے خبردار کر دیا
- سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں سے متعلق بحث کیلئے تحریک التوا ءمنظور کر لی
- روسی فوج کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ
- میر رضا کیس: کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، وزیر اعلیٰ بھی ملنے آئے تو نہیں ملیں گے، جسٹس عمر سیال
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔