عمان نے آبنائے ہُرمُز پر فریم ورک منظور کرلیا، ایران
تہران : ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ عمان نے آبنائے ہُرمُز کے ’’فریم ورک آف انڈراسٹینڈنگ‘‘ کی منظوری دے دی ہے۔
ایرانی قانون سازوں نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان مجوزہ فریم ورک پر بڑی حد تک اتفاق ہو گیا ہے تاہم اس کی حتمی منظوری اعلیٰ سطح پر ہونا ابھی باقی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے نیشنل سیکیورٹی کمیشن کے ترجمان حسان غساوی نے کہا عمان آبنائے ہُرمُز کے “فریم ورک آف انڈراسٹینڈنگ” پر رضامند ہوگیا ہے۔ اس فریم ورک کے حتمی مسودے کا اعلان جلد کردیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق ماضی میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی رسد آبنائے ہرمز سے گزرتی تھی، تاہم فروری میں امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہونے والی علاقائی لڑائی کے دوران ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو مؤثر طور پر بند کر دیا تھا۔ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات میں آبنائے ہرمز کو دباؤ کے ایک اہم ذریعے کے طور پر بھی استعمال کرتا رہا ہے۔
رواں ماہ ایرانی اور عمانی حکام نے آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کے لیے ایک فریم ورک تیار کرنے پر مذاکرات شروع کیے تھے۔
ایران کی نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی کے مطابق مجوزہ انتظام کے تحت ابتدائی طور پر ایرانی اور عمانی بحری راستے استعمال کیے جائیں گے، جس کے بعد جہازوں کی آمدورفت کو ایک مرکزی راستے پر منتقل کر دیا جائے گا۔
مجوزہ منصوبے کے تحت ایرانی حکام آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے جہازوں جبکہ عمانی حکام باہر جانے والے جہازوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کریں گے۔
PNP
Comments are closed.