ایران عمان معاہدہ قریب،امریکا کا ایرانی بندرگاہوں سے محاصرہ ختم کرنے کا عندیہ
ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے ایک عبوری انتظام پر پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ممکنہ معاہدے کے بعد واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری پابندیاں اور محاصرہ ختم کرنے پر غور کرسکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران، عمان اور امریکا کے درمیان کئی ہفتوں سے بات چیت جاری ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کے ساتھ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی راہ دوبارہ ہموار کرنا ہے۔
مجوزہ انتظام کے تحت آبنائے ہرمز میں 60 روز کے لیے عارضی نظام قائم کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے، جس میں فریقین کی رضامندی سے توسیع بھی ممکن ہوگی۔
مجوزہ منصوبے کے مطابق خلیج کی جانب جانے والے بحری جہاز آبنائے کے شمالی راستے سے گزر سکتے ہیں، جو ایرانی پانیوں سے منسلک ہوگا، جبکہ آبنائے سے باہر نکلنے والی بحری آمدورفت کے لیے جنوبی راستہ استعمال کیا جائے گا، جو عمانی پانیوں میں واقع ہے۔
عبوری مدت کے دوران بحری جہازوں سے ٹول یا فیس وصول نہ کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے کے درمیانی راستے سے ممکنہ سمندری بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے 30 روز کے اندر اقدامات کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
The US will lift its blockade of Iranian ports once commercial shipping resumes through the Strait of Hormuz “without impediments”, a US official told Reuters, adding Washington expects Iran and Oman to reach a deal soon.
🔴 LIVE updates: https://t.co/KacredufGv pic.twitter.com/DNN5f5xkUl
— Al Jazeera English (@AJEnglish) August 8, 2026
درمیانی راستہ محفوظ اور قابلِ استعمال ہونے کے بعد اسے دونوں سمتوں کی بحری آمدورفت کے لیے استعمال کرنے کی بات بھی زیرِ غور ہے، جبکہ مستقبل کے مستقل انتظام کا فیصلہ ایران اور عمان کے درمیان طے پانے والی شرائط کے مطابق کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی مذاکرات کاروں کو مجوزہ معاہدے پر حتمی منظوری کے لیے متعلقہ اعلیٰ حکام سے اجازت درکار ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر معاہدہ طے پاتا ہے اور ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے تو امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی اور ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری اقدامات ختم کیے جاسکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات میں عمان اور ایران کے علاوہ قطر، پاکستان اور سعودی عرب کے حکام نے بھی سفارتی رابطوں اور ثالثی کی کوششوں میں کردار ادا کیا ہے۔
PNP
Comments are closed.