کراچی(پی این پی) سابق گورنر سندھ اور سینئر سیاست دان محمد زبیر نے بھی نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی تجویز کی حمایت کردی۔
سابق گورنر سندھ اور سینئر سیاست دان محمد زبیر نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کا موجودہ نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور وہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے نظام کی ناکامی سے متعلق بیانیے کی مکمل تائید و حمایت کرتے ہیں۔ہم تو کافی عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ یہ نظام نہیں چل پا رہا، اور اب حکومت کے ایک سینئر اور طاقتور ترین شخص نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے۔
انہوں نے محسن نقوی کی جانب سے مسائل کے حل کے لیے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی تجویز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بحث کے لیے ایک بہترین موضوع ہے جس پر پورے ملک میں گفتگو ہونی چاہیے۔
کراچی اور گوادر کو وفاق کے ماتحت کرنے کی تجویز پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ فیصلہ کہاں طے ہوا ہے کہ وفاقی حکومت کراچی کو چلانے کے زیادہ اہل ہے؟ جتنی نااہل وفاقی حکومت ہے، اتنی ہی نااہل صوبائی حکومتیں بھی ہیں۔ جو سیاسی جماعتیں اتنی طویل مدت تک اقتدار میں رہیں، انہوں نے عوام کو کیا ڈیلیور کیا؟ دو خاندان اس ملک پر قابض ہیں اور جب تک ان کا تسلط رہے گا، یہ ملک کبھی آگے نہیں بڑھ سکے گا۔
سابق گورنر سندھ نے انکشاف کیا کہ محسن نقوی کے بیان کے بعد مسلم لیگ ن کے قائدین کی ایک اہم بیٹھک ہوئی ہے، جس میں شریف برادران، مریم نواز اور اسحاق ڈار نے بند کمروں میں ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کے لیے میٹنگ کی۔انہوں نے تنقید کی کہ ایک ہی خاندان کے چند لوگ بند کمروں میں عوام کی تقدیر کا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں؟ نواز شریف تو دس سال پہلے خود کہا کرتے تھے کہ پاکستان کے فیصلے بند کمروں میں نہیں ہونے چاہئیں۔
سندھ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اٹھارہ سالہ طویل دور اقتدار میں پیپلز پارٹی کی پالیسیوں کی وجہ سے پورا سندھ کئی دہائیوں پیچھے چلا گیا ہے۔ صوبے کی سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں، جبکہ اس کے برعکس اسلام آباد اور لاہور جائیں تو ترقی دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔کاغذوں کے مطابق کراچی ملک کو 65 فیصد ریونیو دیتا ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ یہاں کے شہریوں کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں۔ اگر اٹھارہ سال بعد بھی کوئی یہ کہے کہ اب ہم کچھ اچھا کرنے جا رہے ہیں، تو میرے پاس مزید اٹھارہ سال انتظار کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔کیا عوام اپنی پوری زندگی اسی امید پر گزار دیں کہ کبھی یہاں کی سڑکیں اور امن و امان بہتر ہو جائیں گے؟ کراچی کی یونیورسٹی روڈ اب ایک مذاق بن چکی ہے۔
مرتضیٰ وہاب سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان سے عوام کی توقعات بہت زیادہ وابستہ تھیں، لیکن کیا انہوں نے کراچی کو بدلا؟ تو اس کا جواب نہیں ہے۔ کیا وہ مستقبل میں کراچی کے لیے کچھ کر سکیں گے؟ اس کا جواب بھی نفی میں آتا ہے۔
بلدیاتی نظام کے حوالے سے محمد زبیر نے مطالبہ کیا کہ مئیر کراچی کو بااختیار بنایا جانا چاہیے اور اس مقصد کے لیے وفاق کو بھرپور سپورٹ کرنا ہوگی۔ وفاق کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ پورا کراچی مئیر کے ماتحت ہو تاکہ اسی حساب سے وسائل کی فراہمی ممکن ہو سکے، اور فنڈز کی منتقلی نچلی سطح تک کی جائے۔
انہوں نے پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان پر یہ الزام درست عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے وفاق سے صوبوں کے لیے بھاری وسائل تو حاصل کیے، لیکن انہیں نچلی سطح پر مقامی حکومتوں کو منتقل نہیں کیا۔اسی طرح ن لیگ بھی پنجاب کی بڑی جماعت ہونے کے باوجود لوکل گورنمنٹ کے انتخابات کرانے پر یقین نہیں رکھتی، کیونکہ حکومتوں کو معلوم ہے کہ اس سے ان کی جاگیر، طاقت اور اختیارات کی گرفت کمزور ہو جائے گی۔کراچی میں ماضی میں جو بھی حقیقی ترقی ہوئی، وہ پرویز مشرف کے دور میں ایک مضبوط بلدیاتی نظام کے ذریعے ہی ممکن ہوئی تھی۔
PNP
Comments are closed.