by Rao Imran Suleman
Rao Nama

17 سال بعد وینزویلا اور اسرائیل میں قونصلر روابط بحال

وینزویلا اور اسرائیل نے تقریباً 17 سال کے وقفے کے بعد قونصلر تعلقات دوبارہ قائم کرنے کا اعلان کردیا ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق وینزویلا کے اسرائیل سے متعلق مؤقف میں یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں سیاسی صورتحال میں بھی نمایاں تبدیلیاں ہوئی ہیں۔

نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد ڈیلسی روڈریگیز ملک کا انتظام سنبھال رہی ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے کاراکاس پر اپنی پالیسیوں کو واشنگٹن کے مؤقف کے قریب لانے کے لیے دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق جون میں وینزویلا میں آنے والے زلزلوں کے بعد اسرائیل نے متاثرہ ملک کو انسانی امداد بھی فراہم کی تھی۔

دونوں ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وینزویلا میں موجود یہودی برادری نے اسرائیل اور وینزویلا کے درمیان روابط کی بحالی اور دونوں فریقوں کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وینزویلا نے تقریباً 17 سال قبل غزہ پر اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کیے تھے۔

مادورو حکومت کے دوران وینزویلا اسرائیل کا سخت ناقد رہا اور اس نے خطے میں اسرائیل کے مخالف ملک ایران کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق قونصلر روابط کی بحالی دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں مزید سفارتی پیش رفت کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔

PNP

Comments are closed.