by Rao Imran Suleman
Rao Nama

باقر قالیباف نے ایرانی حکومت گرنے کا خطرہ ظاہر کر دیا

ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ حکومت امریکی معاشی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو تیار کرے، ورنہ وہ قائم نہیں رہ سکے گی۔

عراق کے دورے پر موجود محمد باقر قالیباف نے بغداد میں ایرانی سفارت خانے میں ایرانی اور عراقی تاجروں سے ملاقات کے دوران کہا کہ ہمارے پاس چاہے کتنی ہی فوجی طاقت کیوں نہ ہو، اگر لوگ بھوکے ہوں گے، معاشی ترقی اور قومی پیداوار نہیں ہوگی تو ہم بچ نہیں پائیں گے۔

قالیباف کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ان ظالمانہ پابندیوں پر قابو پانے کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہو گی تاکہ ہم ان کا مقابلہ کر سکیں۔‘

بی بی سی کے مطابق اس ملاقات میں انھوں نے ایران اور عراق کے درمیان تجارت میں دونوں ممالک کی قومی کرنسیوں کے استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس طریقۂ کار سے دوطرفہ لین دین میں ڈالر کا کردار ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف معاشی جنگ کا اعلان کر دیا ہے اورامریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف واشنگٹن کی نئی پابندیاں ’عالمی تاریخ میں مربوط معاشی تنہائی کی سب سے بڑی مہم‘ ہو گی اور یہ ’ایرانی حکومت کو زوال سے دوچار کر دیں گی

PNP

Comments are closed.