by Rao Imran Suleman
Rao Nama

ایکواڈور کے سابق صدر لینین مورینو کو رشوت ستانی پر 5 سال قید

ایکواڈور: سابق صدر لینین مورینو کو رشوت ستانی کے مقدمے میں 5 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ عدالتی فیصلے کے مطابق مورینو نے ایک بڑے پن بجلی منصوبے کا ٹھیکہ دلوانے کے بدلے رشوت وصول کرنے کے معاملے میں کردار ادا کیا۔

مقدمہ تقریباً 2 ارب ڈالر مالیت کے ایک پن بجلی منصوبے سے متعلق ہے، جس کا ٹھیکہ چینی کمپنی سینوہائیدرو کو دیا گیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق اس منصوبے سے منسلک مبینہ رشوتوں کا مجموعی حجم تقریباً 76.1 ملین ڈالر تھا، جس میں مورینو اور ان کے قریبی خاندان کو بھی رقم موصول ہوئی۔

لینین مورینو 2017 سے 2021 تک ایکواڈور کے صدر رہے، تاہم ان کے خلاف ثابت ہونے والے الزامات کا بڑا حصہ اس عرصے سے پہلے کا ہے، جب وہ ملک کے نائب صدر کے منصب پر فائز تھے۔

عدالت نے سزا کے ساتھ مورینو کو مستقبل میں کسی بھی سرکاری عہدے کے لیے مستقل طور پر نااہل بھی قرار دے دیا ہے۔

73 سالہ سابق صدر جسمانی معذوری کے باعث اپنی سزا گھر میں نظر بندی کی صورت میں پوری کریں گے۔

PNP

Comments are closed.