by Rao Imran Suleman
Rao Nama

پمز سانحہ، ماں کی جانب سے لاوارث چھوڑ دیئے گئے ننھے علی کی تدفین کر دی گئی

اسلام آباد (پی این پی) پمز ہسپتال میں 26 اگست کو پیش آنے والی آتشزدگی نے جہاں متعدد نومولود بچوں کی جانیں لیں،

وہیں ایک ایسے بے سہارا بچے کی زندگی بھی ختم ہوگئی جسے پیدائش کے بعد ہی اپنوں نے ہسپتال میں تنہا چھوڑ دیا تھا۔

ننھا علی تقریباً دو ماہ قبل پمز ہسپتال میں پیدا ہوا تھا، تاہم اس کی والدہ اور نانی اسے وہیں چھوڑ کر چلی گئیں۔ کئی دن تک بچے کی شناخت بھی معلوم نہ ہوسکی اور ہسپتال میں اس کے ہاتھ پر صرف ’’بے بی ایچ‘‘ کی شناخت موجود تھی۔

ہسپتال کی نرسوں نے اس بے نام بچے کو محبت سے علی کا نام دیا اور اپنی نگرانی میں اس کی دیکھ بھال کرتی رہیں۔ طبیعت خراب ہونے پر اسے انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) منتقل کیا گیا، جہاں طبی عملہ اس کے علاج اور نگہداشت میں مصروف رہا۔

تاہم 26 اگست کو پمز میں لگنے والی آگ کے المناک واقعے کے دوران ننھا علی بھی جانبر نہ ہوسکا۔ معصوم بچے کی موت کے بعد بھی کوئی ایسا فرد سامنے نہیں آیا جو اس کی میت وصول کرتا۔

مردہ خانے میں موجود ننھے علی کا جسد اپنے کسی وارث کا منتظر رہا، لیکن اس کی ماں یا خاندان کا کوئی فرد اسے لینے واپس نہیں آیا۔ بعد ازاں پمز انتظامیہ نے بچے کو لاوارث قرار دیتے ہوئے اس کی میت ایدھی سینٹر کے حوالے کردی۔

ایدھی سینٹر نے اس بے سہارا بچے کی آخری ذمہ داری نبھاتے ہوئے اسے پورے احترام کے ساتھ سپردِ خاک کردیا۔

ننھا علی اپنی مختصر زندگی میں شناخت اور اپنوں کی محبت سے محروم رہا، لیکن زندگی کے آخری سفر میں اسے اکیلا نہیں چھوڑا گیا۔ جن لوگوں نے اسے دنیا میں لاکر بے سہارا کردیا تھا، ان کی غیر موجودگی میں ایدھی سینٹر نے اس معصوم کے لیے آخری فرض ادا کیا۔

PNP

Comments are closed.