2027 کا تاریخی سورج گرہن، پاکستان میں بھی فلکیاتی نظارہ ہوگا
کراچی(پی این پی)2 اگست 2027 کو 21ویں صدی کا طویل ترین مکمل سورج گرہن رونما ہوگا، جس کا جزوی نظارہ پاکستان میں بھی کیا جاسکے گا،
تاہم ملک میں سورج مکمل طور پر چاند کے پیچھے نہیں چھپے گا۔فلکیاتی حسابات کے مطابق مکمل سورج گرہن کا زیادہ سے زیادہ دورانیہ 6 منٹ 23 سیکنڈ تک رہنے کی توقع ہے۔ مکمل گرہن والے علاقوں میں دن کے وقت چند منٹ کے لیے رات جیسی تاریکی چھا جائے گی اور سورج کی بیرونی فضا، جسے کورونا کہا جاتا ہے، نمایاں ہوسکتی ہے۔گرہن کا راستہ بحر اوقیانوس سے شروع ہوکر اسپین، شمالی مراکش، شمالی الجزائر، شمالی تیونس، شمال مشرقی لیبیا، مصر، سوڈان، سعودی عرب، یمن اور صومالیہ کے بعض علاقوں سے گزرتا ہوا بحر ہند میں چاغوس جزائر کے قریب اختتام پذیر ہوگا۔پاکستان میں سورج گرہن 2 اگست 2027 کو تقریباً دوپہر 2 بج کر 43 منٹ پر شروع اور شام 4 بج کر 51 منٹ تک جاری رہنے کی توقع ہے۔
اسلام آباد میں گرہن تقریباً 3 بج کر 14 منٹ پر شروع، 3 بج کر 47 منٹ پر عروج اور 4 بج کر 19 منٹ پر ختم ہوگا۔کراچی میں جزوی سورج گرہن تقریباً 3 بجے شروع ہونے اور 4 بج کر 48 منٹ تک جاری رہنے کی توقع ہے۔پاکستان کے علاوہ یورپ، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے بڑے علاقوں میں بھی جزوی سورج گرہن دیکھا جاسکے گا، جبکہ مکمل گرہن کا مرکزی راستہ متعدد ممالک سے گزرے گا۔مصر کو مکمل گرہن کے اہم مقامات میں شمار کیا جارہا ہے، جہاں اس کا دورانیہ تقریباً 6 منٹ 19 سیکنڈ رہنے کی توقع ہے۔ سوہاج اور بحیرہ? احمر کے بعض علاقوں میں مکمل گرہن 6 منٹ سے بھی زیادہ جاری رہ سکتا ہے، جبکہ مکہ مکرمہ میں مکمل گرہن کا دورانیہ تقریباً 5 منٹ 10 سیکنڈ رہنے کی توقع ہے۔مکمل سورج گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آکر سورج کی پوری قرص کو عارضی طور پر ڈھانپ لیتا ہے، جس کے نتیجے میں مکمل گرہن کے راستے میں دن کے وقت تاریکی چھا جاتی ہے۔
PNP
Comments are closed.