by Rao Imran Suleman
Rao Nama

عمر قید کے گینگسٹر کو شادی کیلئے 12 گھنٹے کی آزادی مل گئی

بھارت میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے گینگسٹر مین پال ڈھلہ کو اپنی کمبوڈیائی پارٹنر سے شادی کے لیے 12 گھنٹے کی کسٹڈی پیرول دے دی گئی۔

ہریانہ سے تعلق رکھنے والے مین پال ڈھلہ کو شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے حصار جیل سے باہر جانے کی اجازت دی گئی۔ تقریب جیل کے قریب ایک فارم ہاؤس میں منعقد ہوئی، جہاں اسے پولیس کی سخت نگرانی میں رکھا گیا۔

مین پال ڈھلہ کو صبح 8 بجے سے شام 8 بجے تک جیل سے باہر رہنے کی اجازت دی گئی تھی۔ شادی کی تقریب مکمل ہونے کے بعد پولیس اہلکار اسے دوبارہ جیل لے گئے۔

رپورٹس کے مطابق مین پال ڈھلہ کو مجموعی طور پر 22 مقدمات کا سامنا ہے، جن میں قتل کے الزامات بھی شامل ہیں۔ وہ 2007 اور 2010 میں درج تین مقدمات میں سزا سنائے جانے کے بعد حصار جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔ اس پر جیل میں قید کے دوران ایک شخص کے قتل کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔

اس سے قبل جولائی 2018 میں مین پال ڈھلہ کو حصار سینٹرل جیل سے چھ ہفتوں کی پیرول ملی تھی، تاہم حکام کے مطابق وہ پیرول کی مدت مکمل ہونے سے پہلے ہی فرار ہوگیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق اگست 2018 میں اس نے مبینہ طور پر سونو کمار کے نام سے جعلی شناخت استعمال کی اور بھارت سے فرار ہوکر کمبوڈیا پہنچ گیا، جہاں شناخت تبدیل کرنے کے بعد کاروباری سرگرمیاں شروع کیں۔

مین پال ڈھلہ کی گرفتاری اور بھارت واپسی کے لیے بھارتی پولیس نے مرکزی تفتیشی بیورو سے بھی تعاون طلب کیا۔ پولیس کی درخواست پر نومبر 2024 میں مرکزی تفتیشی بیورو نے اس کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس حاصل کیا اور تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے حکام سے رابطہ کیا۔

کئی سال تک بیرون ملک رہنے کے بعد مین پال ڈھلہ کو گزشتہ سال کمبوڈیا سے بھارت واپس لایا گیا، جس کے بعد اسے دوبارہ قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔

PNP

Comments are closed.