by Rao Imran Suleman
Rao Nama

ملزمان نے ملی بھگت سے لائبہ اعجاز سے 93 لاکھ روپے وصول کیے، ایف آئی اے

ترجمان فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کا کہنا ہے کہ طالبہ لائبہ اعجاز کیس میں ابتدائی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ ملزمان نے باہمی ملی بھگت سے لائبہ اعجاز سے 93 لاکھ روپے وصول کیے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ طالبہ لائبہ اعجاز کیس کا ایف آئی اے میں مقدمہ لائبہ اعجاز کے ماموں کی مدعیت میں درج کیا گیا، مقدمے میں دفعات 419، 420 اور 109 پی پی سی اور دفعات 18 اور 22 امیگریشن آرڈیننس 1979 شامل کی گئی ہیں۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ ملزمان نے باہمی ملی بھگت سے لائبہ اعجاز سے 93 لاکھ روپے وصول کیے، ملزمان نے یہ رقم امریکا ویزا فراہم کرنے اور اسکالرشپ دلوانے کے بہانے وصول کی، ملزمان نے جعلی اسکالرشپ ایوارڈ لیٹرز، یونیورسٹی ایڈمیشن آفر لیٹرز اور فیس پیمنٹ رسیدیں تیار کیں۔

ملزمان نے جعلی دستاویزات کے ذریعے متاثرہ خاندان کو دھوکے میں رکھا، 29 لاکھ روپے لائبہ اعجاز کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے اور باقی رقم نقد ادا کی گئی، اس سنگین مالی دھوکہ دہی اور ذہنی اذیت کے نتیجے میں متاثرہ لائبہ اعجاز انتقال کر گئیں۔

ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون کی زیر نگرانی ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے، لائبہ اعجاز کے ساتھ ہونے والے اس سنگین جرم میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔



PNP

Comments are closed.