by Rao Imran Suleman
Rao Nama

آبنائے ہرمزمیں3آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکراگئے،ایک پر ڈرون حملہ۔ عالمی منڈی میں تیل مہنگا

آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں خام تیل سے لدا ایک سپر آئل ٹینکر سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں  دھماکے سے جہاز کے انجن روم میں شدید آگ لگ گئی۔ پاسداران انقلاب کی بحریہ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ جہاز آبنائے ہرمز سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا اور اس نے اپنے تمام نیویگیشن سسٹمز بند کر رکھے تھے۔

دستاویزات اور جاری کردہ ویڈیوز کے مطابق یہ جہاز قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر مجاز راستے سے گزرنے کے باعث حادثے کا شکار ہوا۔ ایرانی بحریہ نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جو بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں اپنا شناختی نظام بند کرے گا، اسے دشمن تصور کرتے ہوئے بھرپور طاقت سے نشانہ بنایا جائے گا۔

پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آبنائے  میں تین آئل ٹینکروں کے سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے اور آگ لگنے کی اطلاع دی ہے۔

برطانوی تنظیم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے رپورٹ کیا ہے کہ عمان کے قریب ایک آئل ٹینکر ڈرون حملے کا نشانہ بنا، آبنائے ہرمز عبور کرنے والے ایک اور آئل ٹینکر پر میزائل حملہ کیا گیا۔

دوسری جانب تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق ایران کی 7 شرائط پر امریکا کا جواب ناکافی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قطر کے ذریعے پہنچائے گئے اس امریکی جواب میں بعض شرائط تسلیم کی گئی ہیں، لیکن مجموعی طور پر صورت حال میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ایرانی حکام کا الزام ہے کہ امریکی بحری بیڑا اس اہم آبی گزرگاہ کو کھلوانے میں ناکام رہا ہے اور تیل کی ترسیل کے لیے اب روایتی ذرائع کے بجائے دیگر ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل بحری گزرگاہ ہے، تاہم حالیہ تنازع اور آئل ٹینکروں پر ہونے والے حملوں کے بعد سے یہاں بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ قطر دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ سفارتی رابطوں میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، لیکن فریقین کے مابین موجودہ اختلافات اور مطالبات پر ڈیڈلاک برقرار رہنے کے باعث بحران کے فوری حل کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔

 آئل ٹینکروں پر حملوں کے باعث تیل کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات مزید بڑھ چکے ہیں۔اسی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔

برینٹ خام تیل کی قیمت 76 سینٹ اضافے، یعنی 0.73 فیصد، کے بعد 105 ڈالر 48 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت بھی 59 سینٹ اضافے، یعنی 0.64 فیصد، کے بعد 92 ڈالر 44 سینٹ تک پہنچ گئی۔تیل کی قیمتوں میں اضافہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں شدت آنے کے بعد بھی دیکھنے میں آیا۔

PNP

Comments are closed.