by Rao Imran Suleman
Rao Nama

عالمی فوجداری عدالت یورپی یونین کے سخاروف پرائز کی حقدار قرار

یورپی یونین نے عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی انصاف کے لیے اپنے اہم ترین اعزاز سخاروف پرائز سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی پابندیوں کے باعث عدالت اور اس کے عہدیداروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یورپی پارلیمنٹ کی صدر روبرٹا میٹسولا نے جمعرات کو اس اعزاز کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین بین الاقوامی اداروں کے احترام اور کثیرالجہتی نظام کی حمایت کرتی ہے۔ یہ اعزاز عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے بین الاقوامی قانون اور انصاف کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کا اعتراف ہے۔

عالمی فوجداری عدالت کی صدر توموکو اکانے نے اس اعزاز پر یورپی پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ ایوارڈ آزاد عدالتی اداروں اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کے لیے کام کرنے والوں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

امریکی حکومت نے عالمی فوجداری عدالت کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جن کا مقصد عدالت کے امور اور اس کے عہدیداروں کی سرگرمیوں کو متاثر کرنا بتایا جاتا ہے۔ آئی سی سی جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی جیسے سنگین معاملات کی تحقیقات اور مقدمات کی سماعت کرتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ عدالت کے اس اقدام پر ناراض ہے جس کے تحت اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کے سلسلے میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی پابندیاں چھ ماہ بعد نافذ ہوں گی۔ اس دوران یورپی یونین امریکی حکومت کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ یورپی حکام ایسے قانونی اقدامات پر بھی غور کررہے ہیں جن کے ذریعے یورپی اداروں کو امریکی پابندیوں کے ممکنہ اثرات سے محفوظ رکھا جاسکے۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لاین نے کہا ہے کہ عالمی فوجداری عدالت کو دباؤ اور دھمکیوں سے آزاد ہوکر اپنا کام جاری رکھنے کا موقع ملنا چاہیے۔

سخاروف پرائز انسانی حقوق، آزادی اور جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے والے افراد اور اداروں کو دیا جاتا ہے۔ اس اعزاز کا نام سوویت یونین کے معروف منحرف دانشور آندرے سخاروف کے نام پر رکھا گیا اور اس کا آغاز 1988 میں ہوا تھا۔

اس سال عالمی فوجداری عدالت کے علاوہ تنزانیہ کے اپوزیشن رہنما ٹنڈو لیسو اور ایران میں حکومت مخالف احتجاج کرنے والوں کی نمائندگی کرنے والی جڑواں بہنیں ترانہ اور رومینا رحیمی بھی اس اعزاز کے حتمی امیدواروں میں شامل تھیں۔

رپورٹ کے مطابق تنزانیہ کی اپوزیشن جماعت چاڈیما کے سربراہ ٹنڈو لیسو کو اپریل 2025 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر انتخابات کے بائیکاٹ کی ترغیب دینے کے الزام میں غداری کا مقدمہ درج ہے، جس میں سزائے موت بھی ہوسکتی ہے۔

ایرانی جڑواں بہنوں ترانہ اور رومینا رحیمی کو بھی حکومت مخالف احتجاج سے متعلق مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق ترانہ رحیمی کو سزائے موت جبکہ رومینا رحیمی کو 36 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

سخاروف پرائز کی تقریب دسمبر میں منعقد ہوگی۔ اس سے قبل وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو، روسی حکومت کے ناقد الیکسی ناوالنی اور یوکرین کے عوام بھی اس اعزاز سے نوازے جاچکے ہیں۔

PNP

Comments are closed.