عالمی آزاد تجارتی معاہدے،صدر سائٹ ایسوسی ایشن نے جی ایس پی پلس کے تحت پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا
کراچی (پی این پی) سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے صدر عبد الہادی نے حکومت کی توجہ عالمی تجارتی تبدیلیوں اور ملک میں بڑھتی پیداواری لاگت میں مسلسل اضافے کی جانب مبذول کرواتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ صنعتوں کی پیداواری لاگت کم کرنے، کاروباری پالیسیوں میں استحکام لانے اور پاکستانی مصنوعات کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں کیونکہ صنعتی پالیسیوں میں عدم تسلسل اور عالمی تجارتی ترجیحات میں تبدیلیوں نے پاکستان کی برآمدی مسابقت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کا ملکی برآمدی آمدنی حصہ تقریباً 60 فیصد ہے تاہم بڑھتے اخراجات اور عالمی منڈیوں میں سخت مقابلے کے باعث اس شعبے کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں پائیدار اضافہ اور صنعتی بنیاد مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، پیداواری صلاحیت اور زیادہ قدر والی مصنوعات کی تیاری پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔
عبد الہادی کا کہنا ہے کہ مالی سال 2025-26 میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات 18 ارب ڈالر رہیں جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 8.5 فیصد ہیں جبکہ یہ شعبہ لگ بھگ 40 فیصد روزگار فراہم کرتا ہے۔ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں ٹیکسٹائل برآمدات گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 5.26 فیصد اضافے سے 5.026 ارب ڈالر تک پہنچیں تاہم پیداواری لاگت میں اضافے اور عالمی مسابقت کے باعث اس ترقی کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اب بھی یارن، فیبرک اور ہوم ٹیکسٹائل جیسی نسبتاً کم ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات پر زیادہ انحصار کرتا ہے جس سے عالمی منڈی میں زیادہ آمدنی حاصل کرنے کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیکنیکل ٹیکسٹائل، برانڈڈ ملبوسات اور دیگر زیادہ منافع بخش مصنوعات کی تیاری و برآمدات بڑھانے کے لیے صنعتوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا جائے اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
صدرسائٹ ایسوسی ایشن نے کہا کہ ملک میں کپاس کی پیداوار میں کمی کے باعث ٹیکسٹائل صنعت کا درآمدی خام مال پر انحصار بھی بڑھ رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25 میں کپاس کی درآمدات پر اخراجات میں 54.9 فیصد اضافہ ہوا جس سے صنعت کی لاگت مزید بڑھ گئی۔ انہوں نے کہا کہ کپاس کی مقامی پیداوار بہتر بنانے اور زرعی و صنعتی شعبوں کے درمیان رابطہ مضبوط کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ صنعت کو معیاری خام مال مناسب قیمت پر دستیاب ہو سکے۔
عبد الہادی نے خبردار کیا کہ عالمی تجارتی معاہدوں اور ترجیحی سہولتوں میں تبدیلیوں سے پاکستانی برآمدکنندگان کو مزید سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یورپی یونین اور برطانیہ کی منڈیوں تک ترجیحی رسائی نے پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کو سہارا دیا ہے تاہم حریف ممالک کو بہتر تجارتی سہولتیں ملنے سے پاکستان کی مسابقتی برتری متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ تجارتی سفارتکاری مؤثر بنائی جائے، نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جائے اور مقامی صنعت کی پیداواری لاگت کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یورپی یونین کے ساتھ جی ایس پی پلس کا درجہ پاکستان کی برآمدی کامیابی کی بنیاد رہا ہے جس کے تحت ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی تقریباً 89 فیصد برآمدات کو یورپی منڈی میں ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہے تاہم یہ برتری اب بتدریج ختم ہوتی جا رہی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ یورپی یونین کے بھارت کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے اور برطانیہ بھارت تجارتی معاہدے کے تحت بھارتی ٹیکسٹائل مصنوعات کو بھی یورپی منڈی تک ڈیوٹی فری رسائی ملے گی جس سے پاکستان کی یہ مسابقتی برتری متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ان معاہدوں کے باعث بھارتی ٹیکسٹائل مصنوعات کو یورپی اور برطانوی منڈیوں میں بہتر تجارتی رسائی ملنے سے پاکستانی برآمدکنندگان کو سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس سے ملکی ٹیکسٹائل صنعت کی برآمدی صلاحیت متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
PNP
Comments are closed.