مقامی وقت کے مطابق 2 جنوری کی صبح جنوبی کوریا کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کے رہنما لی جے میونگ پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں ایک تقریب میں شرکت کر رہے تھے۔ اطلاع کے مطابق لی جے میونگ کو زخمی حالت میں علاج کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے سیول نیشنل یونیورسٹی اسپتال منتقل کیا گیا ہے اور مشتبہ شخص کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کے صدر یون سوک یول نے اس حملے کے حوالے سے شدید مذمت کا اظہار کیا ہے۔ یون سک یول نے پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں کو فوری تحقیقات کرنے اور لی جے میونگ کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ جنوبی کوریا کی نیشنل پولیس ایجنسی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ بوسان پولیس ایجنسی نے لی جے میونگ پر حملے کی فوری تحقیقات کے لیے تحقیقاتی یونٹ قائم کر دیا ہے۔
Trending
- پاکستان کے اہم علاقے سے سونانکل آیا ، مقامی آبادی کی بڑی تعداد جمع ہو گئی
- چین نے نائب وزیر خارجہ کو اچانک عہدے سے برطرف کردیا
- پاور ڈویژن کا پیک آورز میں روزانہ سوا 2 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا اعلان، بجلی مہنگی ہونے کا بھی امکان
- پاکستان کی صرافہ مارکیٹوں میں سونا پھر مہنگا
- مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ
- عازمین حج کے لیے خوشخبری؛ حکومت نے بڑی سہولت فراہم کردی
- مذہبی تہواروں کا احترام بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کا باعث ہے: وزیراعظم شہبازشریف
- زمبابوے کے بلیسنگ مزارابانی پر پی ایس ایل میں شرکت پر 2 سال کی پابندی عائد
- پنجاب کے مختلف شہروں سے خودکش بمبار سمیت 16 دہشت گرد گرفتار
- فاطمہ ثناء کی چئیرمین پی سی بی سے لیگ شروع کرنے کی درخواست