مقامی وقت کے مطابق 2 جنوری کی صبح جنوبی کوریا کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کے رہنما لی جے میونگ پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں ایک تقریب میں شرکت کر رہے تھے۔ اطلاع کے مطابق لی جے میونگ کو زخمی حالت میں علاج کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے سیول نیشنل یونیورسٹی اسپتال منتقل کیا گیا ہے اور مشتبہ شخص کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کے صدر یون سوک یول نے اس حملے کے حوالے سے شدید مذمت کا اظہار کیا ہے۔ یون سک یول نے پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں کو فوری تحقیقات کرنے اور لی جے میونگ کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ جنوبی کوریا کی نیشنل پولیس ایجنسی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ بوسان پولیس ایجنسی نے لی جے میونگ پر حملے کی فوری تحقیقات کے لیے تحقیقاتی یونٹ قائم کر دیا ہے۔
Trending
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
- کراچی میں مبینہ نومولود لاپتا ہونے کا معاملہ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف سامنے آگیا
- گلیشیئرز پگھلنے سے شمالی علاقوں کو شدید خطرات، نیپال سے زیادہ گھمبیر صورتحال پاکستان کی ہے، ماہرین نے خبردار کر دیا
- سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں سے متعلق بحث کیلئے تحریک التوا ءمنظور کر لی
- روسی فوج کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ
- میر رضا کیس: کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، وزیر اعلیٰ بھی ملنے آئے تو نہیں ملیں گے، جسٹس عمر سیال
- سندھ کے تمام تعلیمی بورڈز میں ریکروٹمنٹ رولز 2026 نافذ کرنے کا فیصلہ
- ہیکرز کا3 برطانوی ائیرپورٹس پر سائبر حملہ،87 لاکھ مسافروں کا ڈیٹا چوری