مقامی وقت کے مطابق 2 جنوری کی صبح جنوبی کوریا کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کے رہنما لی جے میونگ پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں ایک تقریب میں شرکت کر رہے تھے۔ اطلاع کے مطابق لی جے میونگ کو زخمی حالت میں علاج کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے سیول نیشنل یونیورسٹی اسپتال منتقل کیا گیا ہے اور مشتبہ شخص کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کے صدر یون سوک یول نے اس حملے کے حوالے سے شدید مذمت کا اظہار کیا ہے۔ یون سک یول نے پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں کو فوری تحقیقات کرنے اور لی جے میونگ کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ جنوبی کوریا کی نیشنل پولیس ایجنسی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ بوسان پولیس ایجنسی نے لی جے میونگ پر حملے کی فوری تحقیقات کے لیے تحقیقاتی یونٹ قائم کر دیا ہے۔
Trending
- پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
- سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع
- ملک میں کہاں کہاں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
- انگلینڈ کرکٹ ٹیم 16 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گی
- راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کا سپریم کورٹ کی جانب مارچ، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ
- اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج ہوگا
- ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ، صدر اردوان کا دوٹوک اعلان
- جمادی الاول کا چاند نظر آگیا
- سلطان آف جوہر کپ ہاکی کیلئے پاکستانی ٹیم کا اعلان
- فرانس کی سیکڑوں سپر مارکیٹس پر سائبر حملہ ، ملین ڈالر کا نقصان