بیجنگ(نیوزڈیسک)چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دو جنوری کو چین اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 45 ویں سالگرہ کے موقع پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سال 2024 چین اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 45 ویں سالگرہ ہے۔ چین اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات کا قیام دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات بلکہ بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔ گزشتہ 45 برس میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کا حجم 1979 میں 2.5 بلین امریکی ڈالر سے بڑھ کر 2022 میں تقریبا 760 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ہے، دو طرفہ سرمایہ کاری تقریباً صفر سے بڑھ کر 260 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ ہو گئی ہے اور فریقین کے مابین جڑواں صوبوں اور شہروں کی تعداد 284 تک ہو گئی ہے۔ چین اور امریکہ نے بہت سے بین الاقوامی اور علاقائی معاملات پر بھی مفید تعاون کیا ہے۔ تاریخ نے ثابت کر دیا ہے کہ چین امریکہ تعلقات کی ترقی سے نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود میں اضافہ ہوا ہے بلکہ عالمی امن، استحکام اور ترقی کو بھی فروغ ملا ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے لئے چین کی پالیسی واضح اور مستقل ہے، یعنی باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اورتعاون پر مشترکہ کامیابیوں کی جستجو ۔ چین مستحکم، صحت مند اور پائیدار چین امریکہ تعلقات کی تعمیر کے لئے پرعزم ہے۔ چین سان فرانسسکو میں ہونے والے چین امریکہ سربراہ اجلاس میں طے پانے والے اہم اتفاق رائے پر سنجیدگی سے عملدرآمد کرنے اور دوطرفہ تعلقات کو صحیح سمت میں آگے بڑھانے کے لئے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے۔
Trending
- تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے آج کھلیں گے
- نیتا امبانی کے ساتھ رنویر سنگھ کے گربا کی دھوم، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
- پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
- سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع
- ملک میں کہاں کہاں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
- انگلینڈ کرکٹ ٹیم 16 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گی
- راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کا سپریم کورٹ کی جانب مارچ، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ
- اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج ہوگا
- ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ، صدر اردوان کا دوٹوک اعلان
- جمادی الاول کا چاند نظر آگیا
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔