بیجنگ(نیوزڈیسک)چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیئن نے یومیہ پریس کانفرنس کی۔ ایک رپورٹر نے سوال کیا کہ حال ہی میں چین کی الیکٹرک گاڑیوں کی برآمدات کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کچھ عرصہ قبل یورپی یونین نے چین سے درآمد کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں کی کسٹم رجسٹریشن پر ایک نوٹس جاری کیا تھا، کہ مستقبل میں متعلقہ گاڑیوں پر “ریٹرو ایکٹو ٹیرف” عائد کیا جا سکتا ہے، جبکہ برطانیہ اور امریکہ چینی الیکٹرک گاڑیوں پر جوابی تحقیقات یا قومی سلامتی کے خطرے کی تحقیقات کرنے کی تیاری کر رہے ہیں. امریکی وزیر خزانہ جینٹ یلین نے کہا کہ انتظامیہ امریکہ میں الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ترجمان اس بارے میں کیا دیکھتے ہیں ؟
لین جیئن نے کہا کہ “منصفانہ مسابقت” اور “قومی سلامتی” کے نام پر تحفظ پسندی اور تجارتی رکاوٹوں پر عمل کرنا مارکیٹ اکانومی کے اصولوں اور ڈبلیو ٹی او کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ مختصر مدت میں اس طرح کچھ فائدہ اٹھا بھی لیا جائے تو طویل مدت میں یہ گھریلو صنعتوں اور صارفین کے مفادات کو نقصان ہی پہنچائے گا، اور عالمی معیشت کی سبز تبدیلی اور آب و ہوا کی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کی کوششوں کو متاثر کرے گا۔
ترجمان نے نشاندہی کی کہ درحقیقت امریکہ اور یورپی آٹو انڈسٹریز میں بھی اس کی بہت مخالفت ہو رہی ہے اور بہت سے یورپی کار ایگزیکٹوز اور بزنس ایسوسی ایشنز کا ماننا ہے کہ مغرب کو چینی الیکٹرک گاڑیوں سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے، ٹیرف جیسے محدود اقدامات پر انحصار کرنے سے ان کی اپنی مسابقت کو درپیش مسائل کو حل کرنے میں مدد نہیں ملے گی۔
Trending
- حوثیوں کا ریاض ایئرپورٹ اور سعودی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
- گولڈ میڈلسٹ لائبہ کا آخری پیغام سامنے آگیا، افسوسناک انکشاف
- عطاء تارڑ سے قومی ون ڈے کپتان شاہین آفریدی کی ملاقات
- بپاشا باسو کی چھ سال بعد اسکرین پر واپسی، ہنسل مہتا کی ویب سیریز میں نظر آئیں گی
- تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے آج کھلیں گے
- نیتا امبانی کے ساتھ رنویر سنگھ کے گربا کی دھوم، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
- پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
- سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع
- ملک میں کہاں کہاں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
- انگلینڈ کرکٹ ٹیم 16 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گی
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔