بیجنگ:یورپی یونین کے بیان کے حوالے سے کہ وہ کئی چینی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرے گا چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے 26 نومبر کو یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ چین ان یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے جن کی بین الاقوامی قانون میں کوئی بنیاد نہیں اور جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے بھی منظور شدہ نہیں ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ یوکرین کے معاملے پر چین ہمیشہ امن مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے پرعزم رہا ہے۔ چین نے کبھی بھی تنازع کے فریقین کو ہتھیار فراہم نہیں کیے،ایسی اشیاء جو فوجی اور شہری دونوں کے استعمال کی ہوں انہیں سختی سے کنٹرول کیا، اور یہاں تک کہ سویلین ڈرونز کی برآمد کو بھی کنٹرول کیا بلکہ فوجی مقاصد کے لیے سویلین ڈرونز کے استعمال کی مخالفت بھی کی۔انہوں نے کہا کہ چینی اور روسی کاروباری اداروں کے مابین عام تبادلہ اور تعاون کسی تیسرے فریق کو نشانہ نہیں بناتا اور کسی تیسرے فریق کو اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ ماؤننگ نے کہا کہ اس وقت یورپ اور امریکہ سمیت بیشتر ممالک روس کے ساتھ تجارت کر رہے ہیں اور ہم یورپی فریق پر زور دیتے ہیں کہ وہ دوہرا معیار اختیار نہ کرے اور الزام چین پر عائد نہ کرے۔انہوں نے کہا کہ چین چینی کاروباری اداروں کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرتا رہے گا ۔
Trending
- کراچی میں مبینہ نومولود لاپتا ہونے کا معاملہ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف سامنے آگیا
- گلیشیئرز پگھلنے سے شمالی علاقوں کو شدید خطرات، نیپال سے زیادہ گھمبیر صورتحال پاکستان کی ہے، ماہرین نے خبردار کر دیا
- سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں سے متعلق بحث کیلئے تحریک التوا ءمنظور کر لی
- روسی فوج کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ
- میر رضا کیس: کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، وزیر اعلیٰ بھی ملنے آئے تو نہیں ملیں گے، جسٹس عمر سیال
- سندھ کے تمام تعلیمی بورڈز میں ریکروٹمنٹ رولز 2026 نافذ کرنے کا فیصلہ
- ہیکرز کا3 برطانوی ائیرپورٹس پر سائبر حملہ،87 لاکھ مسافروں کا ڈیٹا چوری
- پنجاب میں مون سون کا 8واں اسپیل، 29 اگست سے 5 ستمبر تک بارشوں کا الرٹ جاری
- بینک اسلامی کا پاکستان کے زرعی سپلائی چین کو مستحکم کرنے کے لیے شریعت کے مطابق “ایگری وہیکل فائنانس” کا آغاز
- خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں 29 اگست سے بارشوں کا امکان، اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔