نیو یارک اسٹیٹ سپیریئر کورٹ کے ایک جج نے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف “ہش منی” کیس کا فیصلہ سنایا ، جس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف 34 الزامات درست ثابت ہوئے، لیکن چونکہ وہ صدارتی اقتدار کی منتقلی کے اہم مرحلے میں ہیں،لہذا انہیں سزا سنائے بغیر غیر مشروط طور پر رہا کر دیا گیا۔
“غیر مشروط رہائی” کا مطلب یہ ہے کہ عدالت نے اُن کا جرم برقرار رکھا ہے ، لیکن انہیں قید، جرمانے یا پروبیشن کی سزا نہیں دی جائے گی۔ یعنی 10 دن بعد 20 جنوری کو ٹرمپ باضابطہ طور پر وائٹ ہاؤس میں ایک مجرم کے طور پر واپس جائیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی روز ویڈیو لنک کے ذریعے کیس کی سماعت میں شرکت کی اور اصرار کیا کہ وہ بے قصور ہیں اور انہوں نے کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ امریکہ کے متعلقہ قانون کے مطابق ٹرمپ فیصلہ سنائے جانے کے بعد اپیل دائر کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے بعد میں سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔
Trending
- تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے آج کھلیں گے
- نیتا امبانی کے ساتھ رنویر سنگھ کے گربا کی دھوم، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
- پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
- سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع
- ملک میں کہاں کہاں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
- انگلینڈ کرکٹ ٹیم 16 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گی
- راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کا سپریم کورٹ کی جانب مارچ، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ
- اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج ہوگا
- ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ، صدر اردوان کا دوٹوک اعلان
- جمادی الاول کا چاند نظر آگیا
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔