سنگاپور: سنگاپور میں شنگریلا ڈائیلاگ میں شرکت کرنے والے چینی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے پروفیسر منگ زیانگ چنگ نے سی ایم جی کے نامہ نگار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے کانفرنس میں علاقائی تقسیم پیدا کی، لیکن آسیان ممالک تعاون اور ترقی پر زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں جو کہ خطے کے ممالک کی مشترکہ خواہش ہے۔
پروفیسر منگ نے کہا کہ امریکہ نے شنگریلا ڈائیلاگ کے دوران ایک بار پھر نام نہاد “انڈو پیسفک اسٹریٹجی” پیش کی جو کئی سالوں سے موجود ہے، لیکن تنازعات بھڑکانے، بحران پیدا کرنے اور ایشیا پیسیفک کو غیر مستحکم کرنے کے علاوہ کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ایشیا پیسیفک عالمی ترقی کا اہم مرکز ہے جہاں امن اور استحکام کا حصول آسان نہیں تھا، اور صرف چین کا پیش کردہ ماڈل ہی خطے کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے جو کہ ایشیائی ہمسایہ ممالک کی مشترکہ خواہش بھی ہے۔چین نے اپنے 17 ہمسایہ ممالک کے ساتھ ہم نصیب معاشرے کی تعمیر پر اتفاق رائے پیدا کیا ہے، جبکہ 25 ممالک کے ساتھ “بیلٹ اینڈ روڈ” تعاون معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ چین نے ایشیا پیسیفک خطے میں پرامن ترقی کے لیے دانشمندانہ حل پیش کیا ہے اور چینی ماڈل کو سامنے لایا ہے۔ امن، ترقی اور تعاون تاریخ کا ناگزیر رجحان ہے۔
Trending
- ایران کا اردن میں امریکی فضائی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے کادعویٰ
- 400 کلو چاندی چوری کیس، سابق کلکٹر کسٹم سمیت مزید 5 ملزمان گرفتار
- ثاقب چڈھر اور اداکارہ مومنہ اقبال کے درمیان تنازع سے متعلق کیس میں اہم پیشرفت
- کراچی میں جینا کسی امتحان سے کم نہیں اداکارہ عائشہ عمر
- بحرین میں چوتھی بار فضائی خطرے کے سائرن۔ عوام کو الرٹ رہنے کی ہدایت
- لاہور، نیوزاینکر ریحان طارق کو چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا
- نامناسب تبصرے پر زرین خان کا فوٹوگرافر کو دوٹوک جواب، ویڈیو وائرل
- سندھ میں 79 ادویات اور سرنجز کے نمونے غیر معیاری اور جعلی قرار
- ویزا ختم ہونے پر سعودی عرب نہ چھوڑنے والوں کے لیے سخت سزاؤں کا اعلان
- آزاد کشمیر میں صورتحال بہتر ہوئی تو انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلے پر نظرثانی کریں گے: بیرسٹر گوہر
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔