بیجنگ: کمبوڈیا-تھائی لینڈ جنرل بارڈر کمیٹی کے ایک خصوصی اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے پر اتفاق رائے ہوگیا اور دونوں فریقوں نے متعلقہ دستاویزات پر دستخط کیے۔تھائی لینڈ کے قائم مقام وزیر دفاع نے کہا کہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا نے آ سیان کے مبصرین کی نگرانی میں جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے سرحد پر اضافی فوجی تعینات نہ کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ دونوں فریقوں نے جنرل بارڈر کمیٹی کی اگلی خصوصی میٹنگ ایک ماہ کے اندر منعقد کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
یاد رہے کہ کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان 24 جولائی کو سرحدی علاقے میں جھڑپیں شروع ہوئی تھیں اور دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کے نفاذ اور نگرانی کے انتظامات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چین اس کا خیر مقدم کرتا ہے۔اس وقت کمبوڈیا-تھائی لینڈ سرحد پر صورت حال میں نرمی آتی جا رہی ہے، جو یہ واضح کرتی ہے کہ تنازعات کے حل کے لیے بات چیت اور مشاورت ہی صحیح راستہ ہے۔ منصفانہ اور غیر جانبدارانہ موقف پر قائم رہتے ہوئے، چین کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے اور ان کے اختلافات کو مناسب طریقے سے نمٹانے میں مدد کر رہا ہے۔ چین “آسیان راہ” کے ذریعے سیاسی حل کو فروغ دینے کی حمایت کرتا ہے اور کمبوڈیا-تھائی لینڈ سرحدی تنازعہ کے پرامن حل میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
Trending
- حوثیوں کا ریاض ایئرپورٹ اور سعودی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
- گولڈ میڈلسٹ لائبہ کا آخری پیغام سامنے آگیا، افسوسناک انکشاف
- عطاء تارڑ سے قومی ون ڈے کپتان شاہین آفریدی کی ملاقات
- بپاشا باسو کی چھ سال بعد اسکرین پر واپسی، ہنسل مہتا کی ویب سیریز میں نظر آئیں گی
- تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے آج کھلیں گے
- نیتا امبانی کے ساتھ رنویر سنگھ کے گربا کی دھوم، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
- پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
- سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع
- ملک میں کہاں کہاں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
- انگلینڈ کرکٹ ٹیم 16 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گی
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔
Prev Post