اعتصام الحق
2000 کی دہائی کے اوائل میں، جب چین کے کارخانوں سے دھواں اٹھ رہا تھا اور چین تیزی سے ایک صنعتی ملک میں تبدیل ہو رہا تھا اسی وقت فضا ء گہری دھند میں تبدیل ہو رہی تھی ۔ چین کی حکومت نے محسوس کیا کہ عوام کی صحت اور شہروں کی بقا خطرے میں ہے۔ سو 2006-2012 کے دوران، چین نے اپنی پہلی اہم دستاویزات جاری کیں جن میں توانائی کی کارکردگی میں بہتری کے قومی اہداف، اور کاربن کے اخراج کی نگرانی کا نظام شامل تھا ۔ پھر 2013 میں ایک فیصلہ کن قدم اٹھایا گیا ۔پانچ سالہ : “Air Pollution Prevention and Control Action Plan (2013-2017)” متعارف ہوا، یعنی نیلے آسمان کے حصول کی جنگ کا آغاز ہوا ۔
ملک بھر میں کوئلے سے چلنے والے پرانے پلانٹس بند ہونے لگے۔ صرف 2013 سے 2017 تک، تقریباً 80 گیگاواٹ کوئلے کے پلانٹس بند کر دیے گئے۔ بیجنگ میں 900 سے زیادہ فیکٹریاں یا تو کہیں اور منتقل ہوئیں یا بند ہوئیں اور لاکھوں پرانی گاڑیاں سڑکوں سے ہٹا دی گئیں۔یہ آسان نہ تھا۔ مقامی حکومتیں اکثر معاشی ترقی کو ترجیح دیتی تھیں، قدرتی گیس کی فراہمی محدود تھی، اور صنعتوں کی مزاحمت بھی کم نہ تھی۔ مگر چین ڈٹا رہا۔
مشکلات بہت تھیں۔صنعتی علاقوں کی صفائی، شہری گاڑیوں اور ٹرانسپورٹ کا بڑھتا ہوا استعمال ۔یہ سب اس نیلے آسمان کے حصول کی راہ میں حائل تھا ۔ساتھ ہی قانون سازی کی کمی، اطلاق کی کوتاہیاں، اور ملک کی ترقی کی رفتار کو کم نہ ہو نے دینا ۔یہ سب بھی پیش نظر تھا۔
لیکن عزم مستقل رہا ۔وقت گزرتا رہا ۔اور پھر کامیابیاں سامنے آنے لگیں ۔آ ج ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ دہائی کے دوران چین کی جی ڈی پی میں 69 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ PM2.5 کی مقدار میں 57 فیصد کمی واقع ہوئی اور شدید آلودگی والے دنوں کی تعداد میں 92 فیصد کمی آئی۔ 5 فیصد سے زیادہ کی اقتصادی ترقی کی شرح برقرار رکھنے کے باوجود، چین نے اپنے فضائی معیار میں نمایاں بہتری حاصل کی ہے ۔ قومی اوسط PM2.5 کی مقدار 2013 میں 72 مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے گر کر 2023 میں 29.3 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ہو گئی ۔یہی نہیں بلکہ 2060 تک، بنیادی توانائی کی کھپت میں غیر فوسیل ایندھن کا حصہ 72 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، بجلی کی پیداوار میں قابل تجدید توانائی کا حصہ 70 فیصد سے زیادہ ہونے کا امکان ہے، صنعتی شعبے میں کوئلے کی کھپت 15 فیصد سے نیچے گرنے کی توقع ہے، اور نئی توانائی والی گاڑیوں کے مارکیٹ میں 60 فیصد سے زیادہ حصہ ہونے کا امکان ہے۔یہ حقیقت ہے کہ دنیا کے کسی اور ملک نے اتنی بڑی آبادی کے ساتھ اتنی تیزی سے آلودگی کم نہیں کی۔
چین کا ہدف 2025 تک شدید فضائی آلودگی کو بنیادی طور پر ختم کرنا ہے، جو کہ چودھویں پانچ سالہ منصوبے (2021-2025) کا آخری سال ہے ۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے چین نے آلودگی پر قابو پانے اور کاربن اخراج میں کمی کے لیے اپنی کوششیں تیز کی ہوئی ہیں ، اپنے فضائی معیار کی پیشن گوئی اور انتباہی نظام کو بہتر بنا رہاہے اور PM2.5 اور اوزون آلودگی کے ہم آہنگ انتظام کو بھی بہتر کر رہا ہے ۔2024 میں، چین کے فضائی معیار میں مسلسل نمایاں بہتری دیکھی گئی ۔ پریفیکچرل سطح اور اس سے اوپر کے شہروں میں PM2.5 کا اوسط ارتکاذ 29.3 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر تھا ، جو کہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 2.7 فیصد کم ہے۔اچھے فضائی معیار والے دنوں کا تناسب 87.2 فیصد تک پہنچا ، جو کہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 1.7 فیصد زیادہ ہے۔
فضائی آلودگی کی ایک اہم علامت PM2.5 کی اوسط کثافت 2025 کی پہلی سہ ماہی میں 41.3 مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر رہی، جو کہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 4.8 فیصد کم ہے۔اعداد وشمار کے مطابق پہلی سہہ ماہی میں پریفیکچرل سطح اور اس سے اوپر کے چینی شہروں میں اچھے فضائی معیار والے دنوں کا تناسب 84.8 فیصد تک پہنچا جو کہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 1.2 فیصد زیادہ ہے۔
یہ سفر ابھی جاری ہے۔ مگر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ عزم، قانون سازی اور سائنسی منصوبہ بندی سے آلودگی کی دبیز تہہ ہٹائی جا سکتی ہے، اور نیلا آسمان پھر سے واپس لایا جا سکتا ہے۔