بیجنگ:سی جی ٹی این کے زیر اہتمام 48 ممالک کے 33 ہزار سے زائد جواب دہندگان کے درمیان کیے گئے ایک سروے کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ عالمی موسمیاتی حکمرانی کی فوری ضرورت اور طویل مدتی نوعیت جواب دہندگان کے درمیان عمومی طور پر تسلیم کی گئی ہے۔ جواب دہندگان نے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مشترکہ کارروائی کی اہمیت پر زور دیا۔
سروے میں شامل 91 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر شدید موسمی واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 90 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں فوری اقدامات کی ضرورت ہے اور بین الاقوامی برادری کو موسمیاتی مسائل کے مؤثر حل کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
سروے میں 85 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانا عالمی موسمیاتی حکمرانی کو زیادہ مؤثر بنانے کا ایک طریقہ کار ہے۔ 75 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے موسمیاتی امداد کے وعدوں کو پورا کرنے میں تاخیر ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ 76.7 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ چین نے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا ہے۔ 79.9 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ موسمیاتی حکمرانی کے حوالے سے چین کے اقدامات دوسرے ممالک کے لیے ایک مفید حوالہ فراہم کرتے ہیں۔ 75.8 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ چین نے موسمیاتی حکمرانی کے معاملے میں مضبوط عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بڑی طاقت ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ 73.4 فیصد جواب دہندگان نے چین کی عالمی موسمیاتی حکمرانی میں شرکت کے منصوبے کی تصدیق کی اور مستقبل میں اس کے نئے اور بڑے کردار کی توقع ظاہر کی۔
Trending
- پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
- سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع
- ملک میں کہاں کہاں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
- انگلینڈ کرکٹ ٹیم 16 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گی
- راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کا سپریم کورٹ کی جانب مارچ، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ
- اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج ہوگا
- ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ، صدر اردوان کا دوٹوک اعلان
- جمادی الاول کا چاند نظر آگیا
- سلطان آف جوہر کپ ہاکی کیلئے پاکستانی ٹیم کا اعلان
- فرانس کی سیکڑوں سپر مارکیٹس پر سائبر حملہ ، ملین ڈالر کا نقصان
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔