واشنگٹن :امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کی حیثیت سے، ‘مجھے بین الاقوامی قانون کی ضرورت نہیں ہے ۔ ان کے بقول، دنیا بھر میں فوجی کارروائیوں کی قیادت کرتے وقت ان پر پابندی لگانے والا واحد عنصر ان کے اپنے “اخلاقی معیار اور ارادہ” ہیں ۔ ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ عالمی سطح پر اختیارات کے استعمال کو صرف ان کے ذاتی “اخلاقی معیار اور ارادہ” ہی محدود کر سکتے ہیں، “یہ وہ واحد چیز ہے جو مجھے روک سکتی ہے”۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا امریکی حکومت کو بین الاقوامی قانون کی پابندی کرنی چاہیے، تو ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکہ بین الاقوامی قانون کے تحت محدود ہوتا ہے تو اس صورت میں وہ خود ” ثالث” ہوں گے۔یہ اب تک ٹرمپ کی جانب سے اپنے عالمی نظریے کا سب سے واضح اعتراف ہے، جس کے مطابق وہ امریکی بالادستی کو مضبوط بنانے کے لیے کسی بھی فوجی، معاشی یا سیاسی ذریعے کو آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ ممالک کے درمیان تنازعات میں فیصلہ کن عنصر قانون، معاہدے یا کنونشن نہیں بلکہ قومی طاقت ہونی چاہیے۔
Trending
- تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے آج کھلیں گے
- نیتا امبانی کے ساتھ رنویر سنگھ کے گربا کی دھوم، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
- پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
- سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع
- ملک میں کہاں کہاں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
- انگلینڈ کرکٹ ٹیم 16 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گی
- راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کا سپریم کورٹ کی جانب مارچ، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ
- اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج ہوگا
- ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ، صدر اردوان کا دوٹوک اعلان
- جمادی الاول کا چاند نظر آگیا