by Rao Imran Suleman
Rao Nama

وفاقی حکومت کا سرنج کے دوبارہ استعمال، کسی بھی آپریشن سے قبل ایڈز سکریننگ لازمی قرار دینے کا فیصلہ

اسلام آباد (پی این پی)حکومت نے ایچ آئی وی کے حوالے سے کسی بھی آپریشن سے قبل ایڈز سکریننگ لازمی قرار دینے کا فیصلہ کرلیا ۔

منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے چیئرمین کمیٹی مہیش کمار ملانی کی زیرصدارت اجلاس ہوا جہاں وزارت صحت حکام نے بتایا ملک بھر میں ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ کیسز کی تعداد 84ہزار تک پہنچ چکی ہے، جن میں سے 61ہزار مریض زیر علاج ہیں جبکہ 16ہزار سے زائد مریض علاج کے دوران غائب ہوگئے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ 2020ء میں 49مراکز پر تقریبا 38ہزار افراد کی اسکریننگ کی گئی، 2025تک ٹیسٹنگ سینٹرز کی تعداد بڑھا کر 97کر دی گئی جہاں تین لاکھ سے زائد افراد کے ٹیسٹ کیے گئے اور 14ہزار سے زیادہ کیسز مثبت آئے۔کمیٹی کے ارکان نے ایچ آئی وی کے پھیلا ئوکی بڑی وجہ سرنجز کے دوبارہ استعمال کو قرار دیا۔

وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے بتایا کہ ایچ آئی وی کے حوالے سے وزیراعظم سے ملاقات ہوئی ہے، جس میں یہ 10سی سی سرنج سمیت کسی بھی سرنج کے دوبارہ استعمال پر پابندی لگانے اور کسی بھی آپریشن سے قبل ایڈز اسکریننگ لازمی قرار دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایچ آئی وی کی روک تھام کے لیے گلوبل فنڈ کی جانب سے پاکستان کو 65 ملین ڈالر دیے جا رہے جس میں سے صرف 3.9ملین وزرات صحت کو دیے گئے جبکہ 61ملین ڈالر غیر سرکاری دو تنظیموں کو دیا جا رہا۔کمیٹی اراکین نے اگلے اجلاس میں تمام متعلقہ اداروں کی جانب سے کمیٹی کو بریفنگ دینے کی سفارش کی۔

PNP

Comments are closed.