by Rao Imran Suleman
Rao Nama

گوگل نے بیماری پھیلانے والے مچھروں کی تعداد کم کرنے کے لیے لاکھوں نر مچھر چھوڑنے کی اجازت طلب کر لی

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے کیلیفورنیا اور فلوریڈا میں آئندہ دو برس کے دوران مجموعی طور پر 3 کروڑ 20 لاکھ نر مچھر چھوڑنے کے منصوبے کے لیے امریکی حکام سے اجازت مانگ لی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایسے مچھروں کی آبادی کو کم کرنا ہے جو مختلف خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بنتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA) اس درخواست کا جائزہ لے رہی ہے۔ تجویز کے تحت گوگل ہر سال تقریباً 1 کروڑ 60 لاکھ نر مچھر مخصوص علاقوں میں چھوڑنا چاہتی ہے۔ عوامی مشاورت کا مرحلہ 5 جون تک جاری رہے گا، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ منصوبہ گوگل کے “ڈی بگ” پروگرام کا حصہ ہے، جس میں جدید سائنسی اور تکنیکی طریقوں سے بیماری پھیلانے والے مچھروں کی تعداد کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ منصوبے میں استعمال ہونے والے نر مچھر انسانوں کو نہیں کاٹتے اور نہ ہی بیماری منتقل کرتے ہیں۔

گوگل کے مطابق ان مچھروں میں قدرتی طور پر پایا جانے والا “وولباخیا” نامی بیکٹیریا شامل کیا جاتا ہے۔ جب یہ نر مچھر جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کرتے ہیں تو ان کے انڈے نشوونما نہیں پاتے، جس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ مچھروں کی آبادی میں کمی آتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار بالکل نیا نہیں بلکہ کئی برسوں سے مختلف نقصان دہ حشرات کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ وولباخیا بیکٹیریا کے ذریعے مچھروں کی افزائش روکنے کی تکنیک بھی گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے آزمائی جا رہی ہے۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ سنگاپور میں اس منصوبے کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، جہاں وولباخیا نر مچھروں کے استعمال کے بعد ایڈیز ایجپٹی مچھروں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جبکہ ڈینگی کےکیسزبھی کم ہوئے۔

اگر امریکی حکام اس منصوبے کی منظوری دے دیتے ہیں تو اسے بیماری پھیلانے والے مچھروں پر قابو پانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ایک اہم مثال قرار دیا جا سکتا ہے۔

PNP

Comments are closed.