by Rao Imran Suleman
Rao Nama

عباس عراقچی کا انکشاف: حملے کے وقت سپریم لیڈر کے دفتر میں موجود تھا

عباس عراقچی کے اہم بیانات سامنے آگئے

0

تہران/ویب ڈیسک، 6 جون 2026

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دعویٰ، حملے کے وقت آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر میں موجود تھا

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ حملے کے وقت آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر میں موجود تھے اور حملے کے بعد ملبے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔

عباس عراقچی نے امریکا اور ایران کے تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات فی الحال حقیقت پسندانہ نہیں لگتی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ حقیقی دنیا کے حالات کو مدنظر نہیں رکھ رہے۔

انہوں نے خطے میں ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب خطے کا ایک بڑا اور اہم ملک ہے، جبکہ ایران اور سعودی عرب باہمی تعاون کے ذریعے خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا آیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون نہ صرف دوطرفہ مفاد بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔

دوسری جانب روسی میڈیا کی بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے 50 لڑاکا طیاروں نے آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر کو نشانہ بنایا تھا، تاہم اس دعوے کی آزاد اور غیر جانبدار ذرائع سے تاحال تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ماہرین کے مطابق خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ایسے دعوؤں کی تصدیق کے لیے مستند اور آزاد ذرائع کی معلومات کا انتظار ضروری ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.