by Rao Imran Suleman
Rao Nama

امریکی وفاقی عدالت نے ایچ ون بی ویزا پر مجوزہ اضافی فیس کالعدم قرار دے دی

امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ایچ ون بی ویزوں پر عائد کی گئی ایک لاکھ ڈالر کی اضافی فیس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ اس نوعیت کی فیس دراصل ٹیکس کے زمرے میں آتی ہے، جبکہ ایسے ٹیکس عائد کرنے کا اختیار صرف امریکی کانگریس کے پاس ہے۔ عدالت کے مطابق صدر یا وفاقی ادارے کانگریس کی منظوری کے بغیر اس قسم کی مالی پابندی نافذ نہیں کر سکتے۔

یہ مقدمہ متعدد امریکی ریاستوں کے اٹارنی جنرلز کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جنہوں نے اس اقدام کو قانونی اختیارات سے تجاوز قرار دیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں ماضی کے عدالتی نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امیگریشن قوانین صدر کو ایسے مالی اقدامات نافذ کرنے کا اختیار نہیں دیتے۔

دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ فیس ایک قانونی انتظامی اقدام ہے جس کا مقصد امریکی ملازمتوں کے تحفظ اور ویزا نظام کے مبینہ غلط استعمال کی روک تھام کیلئے ہے

ایچ ون بی ویزا پروگرام کے تحت امریکا ہر سال ہزاروں غیر ملکی ماہرین، انجینئرز، آئی ٹی پروفیشنلز اور دیگر ہنر مند کارکنوں کو کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس پروگرام کے لیے ماضی میں کمپنیوں کو نسبتاً کم فیس ادا کرنا پڑتی تھی، تاہم مجوزہ اضافی فیس نے کاروباری حلقوں اور متعدد ریاستی حکام کی جانب سے شدید تنقید کو جنم دیا تھا۔

عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اضافی مالی بوجھ سے امریکا کی عالمی سطح پر باصلاحیت افراد کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی تھی، جبکہ ناقدین کے مطابق اس اقدام کا مقصد مقامی ملازمتوں کا تحفظ تھا۔

اس معاملے سے متعلق دیگر قانونی درخواستیں بھی مختلف عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں، جن میں کاروباری تنظیمیں اور تجارتی ادارے بھی شامل ہیں۔

PNP

Comments are closed.