by Rao Imran Suleman
Rao Nama

میرے ادارے میں 20 ارب روپے سے زائد کی کرپشن ہوئی، دباؤ قبول نہیں کریں گے: سعید غنی

ماہانہ 5 کروڑ روپے رشوت کی پیشکش ہوئی تھی

0

کراچی (ویب ڈیسک)  15 جون، سندھ

صوبائی وزیرِ محنت و افرادی قوت سندھ، سعید غنی نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے ماتحت ادارے میں 20 ارب روپے سے زائد کی کرپشن ہوئی، تاہم حکومت کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گی اور بدعنوان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر سزا دلائی جائے گی۔

 

کراچی آرٹس کونسل میں منعقدہ آل پاکستان ویمن ورکرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت نے ہوم بیسڈ ورکرز کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود بھی ایک ادارے کے برطرف شدہ ملازم رہ چکے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ان کی دادی ایک دکان چلاتی تھیں اور اپنی محنت سے اپنے بچوں اور پوتوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج خواتین کو بہتر ماحول میں کام کرتے دیکھ کر خوشی ہوتی ہے اور معاشی سرگرمیوں میں خواتین کی شرکت قابلِ ستائش ہے۔

 

سعید غنی نے کہا کہ پاکستانی معاشرہ ابھی مکمل طور پر اتنا ترقی یافتہ اور تہذیب یافتہ نہیں جتنادیگر ممالک میں دیکھا جاتا ہے، 

وزیرِ محنت نے مزید انکشاف کیا کہ 2016 میں بطور مشیرِ محنت انہیں ماہانہ پانچ کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ادارے میں 20 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، لیکن وہ کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے اور بدعنوان عناصر کو دوبارہ عہدوں پر بحال نہیں کیا جا سکتا۔

 

انہوں نے کہا کہ وزارت بچانے کے لیے وہ اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے اور اگر ضرورت پڑی تو وہ کئی مرتبہ وزارت چھوڑنے کو ترجیح دیں گے۔ ان کے بقول، ان کی قیادت اداروں کی خرابیوں کو دور کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت 20 لاکھ گھر تعمیر کر کے فراہم کر رہی ہے اور ان گھروں کی ملکیت خواتین کے نام پر ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت 20 لاکھ خواتین کے بینک اکاؤنٹس کھولے گئے ہیں۔ مزید برآں، ہوم بیسڈ ورکرز کے سوشل سکیورٹی کارڈز کے اجرا میں بعض مسائل سامنے آئے تھے، جنہیں حل کیا جا رہا ہے۔ اس وقت پانچ سے چھ لاکھ مزدور رجسٹرڈ ہیں، جبکہ ان کی تعداد تقریباً 50 لاکھ ہونی چاہیے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.