سرگودھا: بچی سے زیادتی و قتل کا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک، گھر والوں کا لاش لینے سے انکار
سرگودھا میں زیادتی کے بعد قتل کی گئی 7 سالہ بچی کے کیس کا مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا، ملزم کے اہل خانہ نے اُس کی لاش تک لینے سے انکار کردیا، اہل علاقہ نے آبائی قبرستان میں تدفین بھی نہیں ہونے دی۔
مقدمہ میں نامزد دیگر تین ملزمان جسمانی ریمانڈ پر ہیں۔ بچی کی کتابیں اور کاپیاں ایک دردناک کہانی سناتی ہیں، سرگودھا کی سات سالہ بچی کی دنیا بھی دوسری بچیوں کی طرح تھی۔ وہ پڑھائی میں نمایاں تھی، امتحانات میں سو میں سے سو نمبر حاصل کرتی تھی اور اس کے رزلٹ کارڈ پر کامیابی کے ستارے جگمگاتے تھے۔ لیکن پیر کو ایک معمولی سی خریداری کے لیے گھر سے نکلنے والی یہ معصوم بچی واپس نہ آسکی۔
چند لمحوں میں اس کی زندگی کا سفر ختم ہوگیا اور ایک خوشحال گھر ماتم کدہ بن گیا۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بچی کی موت شہ رگ کٹنے سے ہوئی۔ رپورٹ میں جنسی زیادتی کی تصدیق بھی کی گئی ہے۔ وہ چہرہ جس کو ماں باپ چومتے تھے اس روشن چہرے اور ماتھے کی ہڈیاں ٹوٹنے اور جسم پر تشدد کے متعدد نشانات بھی پائے گئے ہیں۔
اہلخانہ کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے بچی کی لاش دکان کی بالائی منزل سے برآمد ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت دکان میں پانچ افراد موجود تھے، اس لیے تمام افراد سے مکمل اور شفاف تفتیش کی جانی چاہیے۔
مرکزی ملزم گزشتہ روز مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا۔ اس گھناؤنے جرم پر ملزم کے اہل خانہ نے اُس کی لاش تک لینے سے انکار کر دیا اور اہل علاقہ نے آبائی قبرستان میں تدفین بھی نہیں ہونے دی، جس کے بعد جھال چکھیاں کے ایک قبرستان میں تدفین کی گئی۔
بچی کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ صرف ایک ملزم کے انجام سے ان کے سوال ختم نہیں ہوئے۔
PNP
Comments are closed.