پسرور(نیوزڈیسک)سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے حکومت سے نکلنے کے بعد نگران حکومت کو مشورہ دیدیا۔
سابق وفاقی وزیر خواجہ آصف نے یوم دفاع کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نگران حکومت کو مشورہ دیا کہ ہزاروں ارب ٹیکس اور بجلی چوری ہوتی ہے، یہ چوری آدھی ہو تو بھی مسئلہ حل ہو جائے گا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ کہ گزشتہ سال 4 ارب کی بجلی فروخت ہوئی، جس میں سے صرف 3 ارب ریکوری ہوئی ایک ہزار ارب کا بوجھ غریب آدمی پر ڈالا گیا۔
انہوں نے کہا کہ 50 فیصد بجلی چوری کو بچالیا جائے تو عوام کو ریلیف مل سکتا ہے، بجلی چوری روک دی جائے تب یہ مسئلہ حل ہوگا، شہروں کے درمیان میں ایک ایسا طبقہ ہے جو بجلی چوری کرتا ہے ملک کا دوسرا مسئلہ ٹیکس چوری بھی ہے، ٹیکس چور ٹی وی پر آکے لیکچر دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے، مہنگائی ایک مسئلہ ضرور ہے، نئی حکومت آئے گی تو مہنگائی پر قابو پالے گی لیکن اس وقت نگران حکومت کوشاں ہے کہ مہنگائی سے نجات ملیں۔
سابق وزیر دفاع نے یوم دفاع کی تقریب سے خطاب ملک کے وجود کیلئے خطرہ بننے والوں کیخلاف عوام، فوج سیسہ پلائی دیوار بن جائینگے، شہدا چونڈہ کی یادگاریں ہمیں اس جنگ کی یاد دلاتی ہے، قربانیاں دی گئیں جس کے نتیجہ میں ملک کو بچایا گیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ہماری فوج اور پولیس قربانیاں دے رہی ہیں، جو قومیں اپنے محسنوں کو بھول جاتی ہیں وہ تباہی کی طرف جاتی ہیں۔
Trending
- مشکل وقت میں کھلاڑیوں پر ’’ملبہ‘‘ نہیں ڈالوں گا، لیکن سیریز کے بعد فیصلہ کرینگے، کس کو نکالنا ہے، سرفراز احمد
- پمز واقعے پر پی پی، ن لیگ، ایم کیو ایم میں نورا کشتی شروع ہوگئی، حافظ نعیم
- کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی پر پُرتشدد احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین گرفتار
- پمز سانحہ،چین کا اسلام آباد کیلئے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
- کراچی میں مبینہ نومولود لاپتا ہونے کا معاملہ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف سامنے آگیا
- گلیشیئرز پگھلنے سے شمالی علاقوں کو شدید خطرات، نیپال سے زیادہ گھمبیر صورتحال پاکستان کی ہے، ماہرین نے خبردار کر دیا
- سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں سے متعلق بحث کیلئے تحریک التوا ءمنظور کر لی
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔