یوئیفا کا عالمی مقابلوں میں نجی سرمایہ کاری کی تجویز واپس نہ لینے پر فیفا ایونٹس کے بائیکاٹ کا اعلان
یورپی فٹبال کی تنظیم یوئیفا نے فیفا کے مجوزہ نجی سرمایہ کاری منصوبے کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فیفا نے اپنے عالمی مقابلوں میں نجی سرمایہ کاروں کو حصہ داری دینے کی تجویز واپس نہ لی تو یورپ کی تمام 55 رکن قومی فٹبال ایسوسی ایشنز فیفا کے تمام مقابلوں، بشمول فیفا ورلڈ کپ، ویمنز ورلڈ کپ اور کلب ورلڈ کپ، کا بائیکاٹ کریں گی۔
یوئیفا کے صدر الیگزینڈر چیفرن کی زیر صدارت منعقدہ ہنگامی ورچوئل اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ تمام 55 رکن ممالک نے متفقہ طور پر فیفا کی اس تجویز کو مسترد کردیا ہے جس کے تحت ورلڈ کپ اور دیگر فیفا مقابلوں میں نجی سرمایہ کاروں کو شامل کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ فیفا ورلڈکپ کوئی سرمایہ کاری کی مصنوعات نہیں بلکہ فٹبال کے عظیم ترین ورثوں میں سے ایک ہے، جو کئی نسلوں کے کھلاڑیوں، قومی ٹیموں اور دنیا بھر کے شائقین کی مشترکہ میراث ہے۔ ورلڈ کپ فروخت کے لیے نہیں ہے۔
یوئیفا نے فیفا پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اتنی اہم تجویز متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے بامعنی مشاورت کے بغیر خفیہ طور پر تیار کی گئی، جو عالمی فٹبال کے نگہبان ادارے کی ذمہ داریوں سے انحراف کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر نجی سرمایہ کار فیفا مقابلوں میں حصہ دار بن گئے تو مستقبل میں عالمی فٹبال کے کیلنڈر، مقابلوں کے فارمیٹ اور دیگر اہم فیصلے کھیل کے مفاد کے بجائے سرمایہ کاروں کے مالی مفادات کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں گے، جو عالمی فٹبال کے لیے ناقابل قبول ماڈل ہے۔
یوئیفا نے واضح کیا کہ جب تک فیفا اس تجویز کو مکمل طور پر واپس نہیں لیتا اور آئندہ اپنے مقابلوں یا گورننس میں نجی ملکیت کی اجازت نہ دینے کی ضمانت نہیں دیتا، یورپی قومی ٹیمیں کسی بھی فیفا مقابلے میں حصہ نہیں لیں گی۔
دوسری جانب فیفا نے حال ہی میں اپنی بڑی تجارتی اور ایونٹ سرگرمیوں کے لیے ایک نئی ذیلی کمپنی قائم کرنے کی تجویز دی ہے، جس میں بیرونی سرمایہ کار اقلیتی حصص خرید سکیں گے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے رکن ممالک کو اس منصوبے کی حمایت کی صورت میں 4 کروڑ امریکی ڈالر تک دینے کی پیشکش بھی کی ہے، جبکہ اس تجویز کی منظوری کے لیے 19 ستمبر کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔
PNP
Comments are closed.