قانون بھی یہی کہتا ہے جو ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا، ایسا نہیں ہو سکتا آپ قانون کے ایک حصے پر عمل کریں، دوسرے پر نہیں ،چیف جسٹس پاکستان کے کیس میں ریمارکس
کراچی(پی این پی)سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ٹنڈو آدم میں بائی پاس کیلئے حاصل کی گئی نجی اراضی کی مالیت کیس میں چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ہائیکورٹ کے فیصلے میں کیا غلطی ہے؟قانون بھی یہی کہتا ہے جو ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا، اراضی کی مالیت 300روپے فی فٹ طے ہو چکی تھی، ایسا نہیں ہو سکتا آپ قانون کے ایک حصے پر عمل کریں، دوسرے پر نہیں ۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ٹنڈو آدم میں بائی پاس کیلئے حاصل کی گئی نجی اراضی کی مالیت کیس کی سماعت ہوئی،سرکاری وکیل نے کہاکہ 1997میں بانی پاس کیلئے 9ایکڑنجی اراضی حاص کی گئی،چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ ہائیکورٹ کے فیصلے میں کیا غلطی ہے؟قانون بھی یہی کہتا ہے جو ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا، اراضی کی مالیت 300روپے فی فٹ طے ہو چکی تھی، ایسا نہیں ہو سکتا آپ قانون کے ایک حصے پر عمل کریں، دوسرے پر نہیں ، زمین 1997میں لی گئی، ادائیگی آج تک نہیں ہوئی،کیا آج بھی ادائیگی کیلئے 1997کے ریٹ چاہتے ہیں؟
وکیل نے کہاکہ مختیار کار کی رپورٹ کے مطابق اراضی بیش قیمتی ہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ریکارڈ کے مطابق اراضی صنعتی علاقے سے چند سو فٹ دور ہے،صنعتی علاقے سے متصل زمین کی قیمت بڑھ جاتی ہے،بتایا جائے مالیت کس دستاویزات کی بنیاد پر طے ہوئی؟مسمار پراپرٹیز کی مالیت اور کھدائی سے نقصان کے شواہد بھی دیئے جائیں، ریکارڈ کے جائزے کے بعد اپیل پر حکم یا آئندہ تاریخ کافیصلہ ہوگا۔
PNP
Comments are closed.