by Rao Imran Suleman
Rao Nama

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز سے متعلق بیان مذاق تھا:وائٹ ہاؤس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کے بیان پر وائٹ ہاؤس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر نے یہ بات مذاق کے طور پر کہی تھی اور اسے کسی باقاعدہ پالیسی فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق آبنائے ہرمز کو امریکی علاقے میں شامل کرنے کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے مشیروں کے درمیان کوئی مشاورت یا بات چیت نہیں ہوئی۔

رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیویارک میں ایک خطاب کے دوران کہا تھا کہ ایران کو مکمل شکست دینے کے بعد وہ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا فیصلہ کریں گے۔ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور صورتحال میں فیصلہ کن مرحلہ آنے کے بعد ہرمز کے حوالے سے بڑا قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ کے اس بیان کے بعد آبنائے ہرمز کی حیثیت اور خطے میں امریکی پالیسی کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے تھے، تاہم وائٹ ہاؤس کے سینئر عہدیدار نے واضح کیا کہ صدر کا بیان سنجیدہ حکومتی منصوبے کا اعلان نہیں تھا۔

عہدیدار نے کہا کہ ٹرمپ نے اپنی تقریر کے دوران یہ بات مزاحیہ انداز میں کہی اور آبنائے ہرمز کو امریکی علاقے میں شامل کرنے کے حوالے سے کوئی عملی منصوبہ زیرِ غور نہیں۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل میں اس کا اہم کردار ہے۔ خطے میں کشیدگی کے باعث اس سمندری راستے کی صورتحال عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی وضاحت کے بعد ٹرمپ کے بیان کو امریکی حکومت کی باضابطہ پالیسی کے بجائے ایک سیاسی یا طنزیہ تبصرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

PNP

Comments are closed.