by Rao Imran Suleman
Rao Nama

میزائل حملوں کے بعد امارات نے ایران کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں معطل کردیں

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایران کی جانب سے اپنی سمندری حدود میں مبینہ طور پر داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کے بعد تہران کے ساتھ تمام تجارتی، کاروباری اور مالیاتی سرگرمیاں تاحکمِ ثانی معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اماراتی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ ہنگامی اور سخت فیصلہ خطے میں بڑھتی ہوئی شدید کشیدگی، ملکی سلامتی اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کو لاحق سنگین خطرات کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ اس اہم سفارتی اور معاشی اقدام کے تحت دونوں ممالک کے مابین ہر قسم کے کمرشل تبادلے اور بینکنگ ٹرانزکشنز پر فوری پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس سے طویل عرصے بعد بحال ہونے والی کراس گلف تجارت شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

دوسری جانب تہران نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دیا ہے۔

اس تازہ ترین بحران کا آغاز منگل کے روز اس وقت ہوا جب اماراتی فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگایا۔ اماراتی وزارتِ دفاع کی تکنیکی رپورٹ کے مطابق ان میں سے پہلا میزائل ملکی سرحدوں سے باہر جبکہ دوسرا میزائل یو اے ای کے اپنے علاقائی پانیوں میں جا گرا۔ عسکری حکام کا کہنا ہے کہ ان میزائلوں کا مقصد اماراتی سرزمین کو براہِ راست نقصان پہنچانا نہیں تھا بلکہ خلیج میں بین الاقوامی بحری نقل و حمل اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا تھا۔

اس واقعے کے دوران اماراتی شہریوں کے موبائل فونز پر ہنگامی الرٹس بھی بھیجے گئے جس میں انہیں ممکنہ خطرے سے بچنے کے لیے محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی ہدایت کی گئی، تاہم صورتحال واضح ہونے پر یہ الرٹ جلد ہی واپس لے لیا گیا۔

رواں سال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ فضائی حملوں کے بعد تہران نے جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے خطے میں موجود ان تمام ممالک کو نشانہ بنایا جہاں امریکی عسکری اثاثے موجود تھے، جس کا سب سے زیادہ خمیازہ یو اے ای کو بھگتنا پڑا تھا۔ مڈل ایسٹ کو بڑی تباہی سے بچانے کے لیے جون کے وسط میں پاکستان کی ثالثی کے تحت امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مستقل امن معاہدے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جس کے بعد جولائی میں دونوں ممالک کے مابین تناؤ کم ہوا اور امارات نے اپنے ہاں مقیم بیس ہزار ایرانی شہریوں کو واپس آنے کی اجازت بھی دی۔ تاہم، امن شرائط اور آبنائے ہرمز سے بحری گزرگاہ کی بحالی پر اختلافات برقرار رہنے کے باعث پیر کے روز مذاکرات کے لیے مقررہ ساٹھ روزہ مدت کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئی۔

مذاکرات کی اس ناکامی اور سفارتی ڈیڈ لاک کے دوران ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے یو اے ای کی سرکاری آئل کمپنی ‘ادنوک’ کے کم از کم انیس تجارتی ٹینکرز اور بحری جہازوں کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا، جس نے امارات کو یہ انتہائی فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔

اماراتی الزامات کے جواب میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران نے یو اے ای پر کوئی میزائل نہیں داغا اور اماراتی حکومت کو ایسے بے بنیاد دعووں سے گریز کرنا چاہیے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق یہ خطے میں امریکی اور اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے کیا جانے والا کوئی فالس فلیگ آپریشن ہو سکتا ہے جس کا مقصد خلیجی ممالک اور ایران کے مابین سفارتی اعتماد کو ٹھیس پہنچانا ہے۔ اس وقت اماراتی وزارتِ دفاع نے اپنی افواج کو انتہائی ہائی الرٹ پر رکھا ہوا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

PNP

Comments are closed.